خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 358
358 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 ہر رشتے کے لحاظ سے بہت اچھے انسان تھے۔خاص طور پر یتیم بچے اور بچیوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔چاہے وہ رشتے دار، غیر رشتے دار غیر از جماعت یا احمدی ہوتا۔جماعتی خدمات کا بہت جوش اور جذبہ تھا۔اسی لئے جب بھی لاہور سے چھٹی پر گھر آتے تو بتاتے کہ میں ادھر بہت خوش ہوں، مسجد میں آنے والا ہر احمد کی چاہے وہ چھوٹا ہے یا بڑا ہر ایک بہت عزت سے ملتا ہے۔شہید مرحوم کے بچوں نے بتایا کہ ہمارے ابو بہت اچھے انسان تھے۔ہمارے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔ہر ایک خواہش کا احترام کرتے تھے۔بیٹی نے بتایا کہ خاص طور پر میری ہر خواہش پوری کرتے تھے۔بچوں کی تعلیم کے بارہ میں بہت جذبہ اور شوق تھا۔بیٹی نے بتایا کہ مجھے کہتے تھے کہ میں تمہیں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ بھیج دوں گا۔ماحول اچھا ہے اور وہیں جماعت کی خدمت کرنا۔چاہے مجھے تمہارے ساتھ ربوہ میں ہی کیوں نہ رہنا پڑے۔بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والے باپ تھے۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے مزید بتایا کہ شہادت سے کچھ روز قبل فون کر کے مجھے بتایا کہ میں ڈیوٹی پر کھڑا تھا، صدر صاحب حلقہ مسجد میں تشریف لائے۔میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا صدر صاحب! میری وردی پر انی ہو گئی ہے اگر مجھے نئی وردی لے دیں تو ہر ایک آنے والے کو اچھا محسوس ہو گا۔لہذ ا صدر صاحب نے نئی وردی لے دی۔شہادت والے روز سانحہ سے قبل فون کر کے بتایا کہ میں نے نئی وردی پہنی ہے۔اسی وردی میں شہادت کا رتبہ پایا۔ان کی اہلیہ لکھ رہی ہیں کہ شہادت کی خبر پہلے ٹی وی کے ذریعہ ملی کہ لاہور میں احمدی مساجد پر حملہ ہو گیا ہے۔پھر ہم نے لاہور وسیم صاحب کے نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔وسیم صاحب کے نمبر سے کسی احمدی بھائی نے فون کر کے خبر دی کہ وسیم صاحب شہید ہو گئے ہیں۔یہ خبر سن کر بہت دکھ اور تکلیف بھی ہوئی لیکن شہادت جیسا بلند مرتبہ پانے پر بہت خوشی تھی اور سر فخر سے بلند تھا کہ مسجد میں نمازیوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت پائی۔شہید مرحوم پنجوقتہ نماز کے پابند تھے ، نیکی کے ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔مکرم نذیر احمد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم نذیر احمد صاحب شہید ابن مستری محمد یاسین صاحب کا۔شہید مرحوم اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے اور اکیلے احمدی ہونے کی وجہ سے پورے خاندان میں مخالفت تھی۔شہید مرحوم تجنید اور بجٹ کے لحاظ سے حلقہ کوٹ لکھپت میں شامل تھے۔نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں آتے۔اس کے علاوہ باقی نمازیں اپنے حلقے میں واقع نماز سینٹر میں ادا کرتے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 72 سال تھی۔مسجد ماڈل ٹاؤن بیت النور میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ان کی نماز جنازہ اور تدفین ان کے غیر از جماعت رشتے داروں نے ہی ادا کی اور کوٹ لکھ پت قبرستان میں دفن کیا۔شہید مرحوم نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن پہنچے ہی تھے۔اس دوران دہشتگردوں نے حملہ کر دیا اور گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے۔ان کا جسدِ خاکی جناح ہسپتال میں رکھا گیا جہاں سے ان کے بھانجے جو غیر از جماعت ہیں نعش کو جنازہ اور تدفین کے لئے لے گئے۔مسجد دارالذکر میں