خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 357 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 357

خطبات مسرور جلد ہشتم 357 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 نہیں کی۔انتہائی نرم مزاج تھے۔میں نے اپنی پوری شادی شدہ زندگی میں ان کے منہ سے کبھی کوئی سخت بات نہیں سنی۔وسیم صاحب کا چہرہ ہر وقت مسکراتا رہتا تھا اور کبھی میں کسی بات پر ناراض ہوتی تو بڑے پیار سے مناتے اور جب تک میری ناراضگی دور نہیں ہو جاتی منانا نہیں چھوڑتے تھے۔شہادت کے بعد جب ان کی میت گھر لائی گئی تو ان کے چہرے پر وہی مسکراہٹ اور سکون تھا جو ہر وقت ان کے چہرے پر ہو تا تھا۔کوئی بھی مہمان ہو ہر ایک سے بہت عمدہ طریق سے ملتے۔ماں باپ کا ، بہن بھائیوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔عزیز رشتے داروں سے کبھی بھی کوئی ناراضنگی نہ رکھتے تھے یہاں تک کہ آفس کے لوگ بھی کہتے کہ وسیم صاحب نے کبھی اپنے جو نیئر ز سے سخت لہجے میں بات نہیں کی۔وسیم صاحب نڈر قسم کے انسان تھے۔احمدی ہونے پر فخر تھا۔گاڑی میں تشخیز رسالے اکثر پڑے ہوتے تھے۔ان کا جو نیئر جو کہ احمدی تھا، انہیں اکثر کہتا تھا کہ وسیم صاحب! کہیں کوئی مولوی فطرت انسان دیکھ کر آپ کو نقصان نہ پہنچائے؟ تو وسیم صاحب کہتے کہ یار ! شہادت کا رتبہ ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہو تا۔گھر میں بھی اکثر کہتے تھے کہ تبلیغ سے کبھی نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ ہم جیسے گناہگاروں کو ایسا اعزاز کہاں ملتا ہے۔ان کے جونیئر تھے اسد ، انہوں نے بتایا کہ وسیم صاحب اور وہ انگلی صف میں بیٹھتے تھے ، جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی تو سب لوگ ہال کے ایک طرف اکٹھے ہو گئے اور کسی دروازے سے باہر نکل رہے تھے۔اسد نے وسیم کو آواز دی لیکن وسیم نے کہا کہ پہلے اگلے لوگوں کو نکل جانے دو پھر میں آتا ہوں۔اسی دوران وسیم صاحب کو آٹھ گولیاں پیٹ میں لگیں اور ایک گھنٹے کے اندر شہادت ہو گئی۔مکرم و سیم احمد صاحب اگلا ذکر ہے مکرم وسیم احمد صاحب شہید ابن مکرم محمد اشرف صاحب چکوال کا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد کا تعلق ر تو چھہ ضلع چکوال سے تھا شہید مرحوم نے میٹرک تک تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی۔پھر فوج میں بطور لانس نائیک ملازمت شروع کر دی۔فوج سے ریٹائر منٹ کے بعد اسلام آباد میں ایک سکیورٹی کمپنی میں ملازمت شروع کی۔بعد ازاں 2009ء میں مسجد دارالذکر میں سکیورٹی گارڈ کی ملازمت شروع کر دی۔ان کے خسر مکرم عبد الرزاق صاحب نظارت علیاء صدر انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ کے ڈرائیور تھے۔شہادت کے وقت وسیم احمد صاحب کی عمر 54 سال تھی۔مسجد دارالذکر میں ڈیوٹی دینے کے دوران جام شہادت نوش فرمایا۔سانحے کے روز وسیم صاحب مسجد دارالذکر کے مین گیٹ پر ڈیوٹی پر تھے۔حملہ آوروں نے دور ہی سے فائرنگ شروع کر دی جس سے سانحے کے آغاز میں ہی ان کی شہادت ہو گئی۔شہید مرحوم کی دو شادیاں ہوئی تھیں۔1983ء میں پہلی بیوی کی وفات ہو گئی پھر 1990ء میں عبد الرزاق صاحب جن کا میں نے ذکر کیا ہے ان کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ان کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ بہت ہی اچھے انسان تھے۔معاشرے میں بہت اچھا مقام تھا۔ہر ایک کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔