خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 353

خطبات مسرور جلد ہشتم 353 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 خود آبدیدہ ہو کر مجھے تبلیغ کر رہا ہے ان کی جماعت جھوٹی کیسے ہو سکتی ہے۔یہ بھی تبلیغ کرنے کا اپنا اپنا ہر ایک کا انداز ہوتا ہے اور جو دل سے نکلی ہوئی باتیں ہوتی ہیں پھر اثر کرتی ہیں اور پھر ڈاکٹر صاحب نے بیعت کرلی۔مربی صاحب کے والدین کے علاوہ باقی تمام رشتے دار غیر از جماعت ہیں۔آخری سانس تک ان کو بھی تبلیغ کرتے رہے۔ہر غمی اور خوشی کے موقع پر اپنے بچوں کو خاص طور پر غیر از جماعت رشتے داروں کے پاس دکھانے کی غرض سے ساتھ لے جاتے تھے کہ دیکھو ہم میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ ان لوگوں کے گلوں میں بد رسومات اور بدعات کا طوق ہے اور ہم خلافت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ان کے بارے میں ایک صاحب نے مجھے خط میں لکھا کہ 2006ء میں خاکسار کو پنڈی میں اطلاع ملی، (یہ راولپنڈی کے ہیں ) کہ محمود شاد صاحب مربی سلسلہ کو بیت الحمد مری میں تعینات کیا گیا ہے۔خاکسار کو امیر صاحب ضلع راولپنڈی نے صدر حلقہ اور بیت الحمد شرقی کے علاوہ بیت الحمد مری روڈ ، مربی ہاؤس مری روڈ اور گیسٹ ہاؤس مری روڈ کی نگرانی بھی سونپی تھی۔تو امیر صاحب کی ہدایت آئی کہ مربی صاحب کے قیام و طعام کا بندوبست کریں۔گیسٹ ہاؤس میں طعام کا ابھی بندوبست نہیں تھا۔کھانا جو بھی پیش کیا جا تا مربی صاحب بڑے صبر ورضا کے ساتھ کھا لیتے۔مربی ہاؤس اور گیسٹ ہاؤس مری روڈ تین منزلہ ہے۔پہلے مربی ہاؤس دوسری منزل پر تھا۔جماعت نے فیصلہ کیا کہ اسے تیسری منزل پر شفٹ کر دیا جائے اور پہلی دومنزلیں گیسٹ ہاؤس بنائی جائیں۔تیسری منزل پر شدید گرمی ہوتی تھی۔مگر مربی صاحب کمال صبر و رضا کے ساتھ وہاں مقیم رہے اور کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لائے۔خلیفہ وقت کے خطبات جمعہ بڑے اہتمام سے سنتے تھے اور احباب جماعت کو بھی بار بار سننے کی تلقین کرتے تھے۔اگر کبھی کسی جماعت میں ڈش خراب ہو گیا تو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک ڈش درست نہ کر والیتے تھے۔مربی صاحب نہایت ہی نرم دل اور خوش مزاج انسان تھے۔ہر ایک کے ساتھ دوستی اور پیار کا تعلق قائم کرتے۔خاندانوں کا بہت علم رکھتے تھے۔اس طرح احباب کے ساتھ ایک ذاتی تعلق بنا لیتے تھے۔خطبات جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی تحریرات اور منظوم کلام بھی بکثرت استعمال کرتے۔دشمن کے ناکام و نامر اور ہنے اور جماعت کی کامیابی پر کامل یقین تھا اور بڑی تحدی سے اس کا ذکر کرتے تھے۔خطبات میں اکثر ان کی آواز بھرا جاتی تھی۔28 مئی سے دو یا تین جمعہ پہلے عشرہ تعلیم القرآن کے سلسلے میں ماڈل ٹاؤن میں خطبہ دیا۔اور حضرت مسیح موعود کا ایک انذار پڑھ کر سنایا جس میں جماعت کے ان لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن کو باقاعدگی سے نہیں پڑھتے۔اس پر جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکے اور آواز بھر آگئی۔خلافت ، جماعت اور نظام کے تقدس کے بارے میں ایک جنگی تلوار تھے۔اگر خلافت اور جماعت کے بارے میں کوئی معمولی سی بات بھی کر دیتا تو اسی وقت اس کا منہ بند کر دیتے اور اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک اس کو غلطی کا احساس نہ ہو جاتا۔خاکسار کے حلقے میں ( یہ وہی صاحب لکھ رہے ہیں اعظم صدیقی صاحب) کہ خاکسار