خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 352

خطبات مسرور جلد ہشتم 352 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 کچھ عرصہ بعد اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ سفر پر جارہے تھے قمیص پر کلمہ طیبہ کا بیج لگا ہوا تھا۔ان کی ہمشیرہ ڈر رہی تھیں اور احتیاط کے لئے ان سے کہا۔لیکن انہوں نے جواب دیا کہ تمہارا ایمان اتنا کمزور ہے ؟ سٹیشن پر اترنے کے بعد وہاں موجود پولیس اہلکار سے جا کر سلام کیا اور اپنی ہمشیرہ سے کہا دیکھو میں تو ان سے سلام کر کے آیا ہوں۔آپ کو خدا تعالیٰ پر بہت ہی تو کل تھا۔شہید مرحوم کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ تنزانیہ میں بھی خدمت کے دوران ان کی مخالفت ہوئی اور اس دوران اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نشان بھی دیکھے۔1999ء میں معاندِ احمدیت شیخ سعیدی نے مربی صاحب پر ایک الزام لگایا کہ انہوں نے کچھ غیر قانونی بندوں کو اپنے مشن ہاؤس میں پناہ دے رکھی ہے۔پولیس مشن ہاؤس آگئی اور تلاشی کے بعد مربی صاحب کو تھانہ لے گئی۔یہ قصہ تنزانیہ کا ہے۔مربی صاحب نے وہاں پہنچ کر اپنا اور جماعت کا تعارف کروایا تو پولیس والوں نے معذرت کرتے ہوئے آپ کو چھوڑ دیا۔بعد ازاں پولیس سے بہت اچھے تعلقات بن گئے۔اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد شیخ سعیدی کو اسی الزام میں حکومت نے سعودی عرب سے ڈی پورٹ (Deport) کر دیا اور یہ خبر اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں تنزانیہ میں ہی ایک دفعہ جماعتی دورے پر جانے لگے تو مجھے ملیریا بخار تھا۔میں نے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور آپ جارہے ہیں ؟ مربی صاحب کہتے ہیں کہ میں اللہ کا کام کرنے جارہا ہوں اور تمہیں بھی اللہ کے حوالے کر کے جارہا ہوں۔شہید کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں تقرری کے کچھ عرصے بعد سے دھمکی آمیز ٹیلیفون کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جب پہلی کال آئی تو مربی صاحب ایک شادی کے فنکشن میں گئے ہوئے تھے۔معلوم ہوا کہ کچھ لوگ آپ کا پیچھا کر رہے ہیں۔تو خدام الاحمدیہ کے کچھ ممبران نے بحفاظت مربی صاحب کو گھر پہنچادیا۔گھر واپس پہنچنے پر مجھے کہتے ہیں کہ دیکھو کیسی عظیم الشان جماعت ہے کہ ان خدام سے ہمارا کوئی دنیاوی رشتہ نہیں ہے لیکن ہر وقت یہ ہماری حفاظت کے لئے تیار رہتے ہیں۔مربی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ اگر تونے میری قربانی لینی ہے تو میں حاضر ہوں لیکن میری اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھنا۔ان حالات میں جب ان کو بہنوں کے فون آتے اور وہ اس خواہش کا اظہار کرتیں کہ چھٹی لے کر ربوہ آجائیں تو آپ کہتے کہ جب باقی احمدی قربانی دے رہے ہیں تو ہم قربانیاں کیوں نہ دیں اور میدان چھوڑ کر کیوں بھا گئیں۔ان حالات سے بعض دفعہ پریشان ہو کر میں جب رو پڑتی تو مجھے کہتے کہ شہداء کی فیملی کو اللہ تعالی ضائع نہیں کرتا اور ان کی خود حفاظت فرماتا ہے۔شہید مرحوم کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔شہادت سے ایک ماہ قبل ایک غیر از جماعت ڈاکٹر صاحب جو چاہتے تھے کہ ان کو مطمئن کیا جائے ان کی کافی مربیان سے بحث ہوئی لیکن ان کی تسلی نہیں ہو رہی تھی، تو مربی صاحب نے (شاد صاحب نے) دو تین مجلسوں کے دوران کئی کئی گھنٹے ان کو تبلیغ کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور کلام بڑے آبدیدہ ہو کر بڑی جذباتی کیفیت میں ان کو سناتے تھے۔یہی ڈاکٹر صاحب جن کو تبلیغ کی جارہی تھی کہتے ہیں کہ آج میرے لئے فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں۔میں اب مطمئن ہو گیا ہوں۔جو شخص