خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 19
خطبات مسرور جلد ہشتم 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 ہے۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے کس قدر پیار کا سلوک ہے کہ بندے کو اپنی بھلائی کے لئے اس کی نیکیوں میں اضافے کے لئے احکام دیتا ہے اور پھر جب بندہ ان احکامات کی بجا آوری کرتا ہے تو فرماتا ہے کہ تو نے یہ نیک کام میری خاطر کئے ہیں گویا کہ مجھے قرضہ حسنہ دیا ہے۔اب اس قرضے کو میں تجھے کئی گنا واپس کر کے لوٹاتا ہوں۔یعنی ہر عمل جو انسان کرتا ہے ہر نیکی جو انسان کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی قرضہ حسنہ کہا ہے اور اس لحاظ سے بندہ کو لوٹاتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ہمارے خدا کی یہ کیا شان ہے کہ اس قدر اپنے بندوں پر مہربانی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:۔ایک نادان کہتا ہے کہ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا (البقرة:246)۔(کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ گویا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے۔(یہ آپ نادان آدمی کی تشریح فرما رہے ہیں ) فرماتے ہیں کہ احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھوکا ہونا کہاں سے نکلتا ہے؟ (اس بات سے یہ کہاں سے نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھوکا ہے اس لئے قرض مانگ رہا ہے ) یہاں قرض کا مفہوم اصل تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں جن کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے۔( یہ مفہوم ہے اس کا کہ ایسی چیز ہے جس کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے۔نادان اپنی طرف سے ہی) ان کے ساتھ افلاس اپنی طرف سے لگا لیتا ہے۔فرمایا کہ یہاں قرض سے مراد ہے کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کو اعمال صالحہ دے۔اللہ تعالیٰ ان کی جزا اسے کئی گنا کر کے دیتا ہے۔یہ خدا کی شان کے لائق ہے جو سلسلہ عبودیت کا ربوبیت کے ساتھ ہے۔اس پر غور کرنے سے اس کا یہ مفہوم صاف سمجھ میں آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بدوں کسی نیکی، دعا اور التجا اور بدوں تفرقہ کافر و مومن کے ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے۔( فرمایا کہ اس کا صرف ایک ہی مطلب نظر آرہا ہے کہ اس کی خاطر جو کام کیا جائے اللہ تعالیٰ جزا کے طور پر اس کو کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے۔اب یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ بندے کا اور خدا تعالیٰ کا جو تعلق ہے اس پر غور کرو تو صاف یہی سمجھ آتا ہے کہ نیکی دعا اور التجا کے بغیر بھی اور کافر و مومن کے کسی فرق کے بغیر اللہ تعالیٰ ہر ایک کی پرورش فرما رہا ہے۔بغیر مانگے لوگوں کو دے رہا ہے۔) فرمایا کہ اپنی ربوبیت اور رحمانیت کے فیض سے سب کو فیض پہنچا رہا ہے۔پھر وہ کسی کی نیکیوں کو کب ضائع کرے گا؟ (جب عمومی فیض ہر جگہ جاری ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ نیکی کرنے والے کی نیکی کو ضائع کر دے۔اس کی شان تو یہ ہے کہ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةُ (الزلزال:8) جو ذرہ بھی نیکی کرے اس کا بھی اجر دیتا ہے اور جو ذرہ بدی کرے گا۔اس کی پاداش بھی ملے گی۔یہ ہے قرض کا