خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 18
خطبات مسرور جلد ہشتم 18 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 جوڑوں پر بڑا خرچ کرتے ہیں۔وہ تو ایک دن پرانا ہو کر ختم ہو جائے گا۔اگر کچھ عرصہ پہن کر کسی کو دے بھی دیا( دل سے اتر گیا) تو اپنے پاس بہر حال نہ رہا۔اور اس کے بنانے میں جو مال خرچ ہوا وہ بھی دوسرے کے پاس چلا گیا۔پھر جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کیا ہے وہی آگے بھیجا ہوا مال ہے جو پھر اگلے جہان میں کام آئے گا اور اس انسان کی جس نے خرچ کیا ہے اس کی نیکیوں میں شمار ہو گا۔ایک دفعہ آنحضرت صلی علیم نے بکری ذبح کروائی۔گھر آئے تو پوچھا کہ کیا کچھ اس میں سے بچا ہے؟ تو جواب ملا کہ ایک دستی بچ گئی ہے باقی سب اِدھر اُدھر تقسیم کر دیا ہے۔فرمایا کہ دستی کے سوا سب کچھ بچ گیا ہے۔(سنن ترمذی کتاب صفۃ القیامة و الرقائق باب 98/33 حدیث 2470) اگلے جہان جو اللہ کی راہ میں دے دیا وہی حقیقت میں کام آئے گا کیونکہ اللہ تعالی کی راہ میں وہ قبول ہوتا ہے۔پس جو مال خرچ کرنے والا ہے وہ جو مال بھی خرچ کرے اس کو کبھی یہ خیال دل میں نہیں لانا چاہئے کہ میں نے کوئی احسان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور ا۔میں بھی، یہ اس کا وعدہ ہے۔دنیاوی قرضہ حسنہ لینے والا تو اتنا ہی لوٹاتا ہے جتنا کہ قرض لیا گیا ہو اور اس میں بڑی ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ تو کئی گنا بڑھا کر واپس لوٹاتا ہے۔پس جب مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے تو یہ سوچ کر دینا چاہئے کہ میں ایک ایسی ہستی کے نام پر دے رہا ہوں جو زمین و آسمان کا خالق و مالک ہے۔اگر وہ مانگ رہا ہے تو اپنے لئے نہیں مانگ رہا بلکہ میرے فائدے کے لئے مانگ رہا ہے، دینے والے کے فائدے کے لئے مانگ رہا ہے۔اور جب اس کے نام پر اس کی جماعت کی ترقی کے لئے دینا ہے تو بغیر کسی تردد کے دوں اور بہترین دوں۔اس میں کسی بھی قسم کی خیانت نہ ہو۔بد عہدی نہ ہو۔جو میرے پہ فرض ہے جو میں نے وعدہ کیا ہے اس کو ادا کرنے میں اپنی ذاتی ضرورتوں کو ترجیح نہ دوں۔اور پھر جیسا کہ اس کے معنی میں ہم نے دیکھا ہے اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے جزا کی امید رکھے۔مالی قربانی کر کے ایک مومن فارغ نہیں ہو جاتا بلکہ ان شرائط کے ساتھ مالی قربانی کر کے جن کا میں نے ذکر کیا ہے پھر اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے اور اس سوچ کے ساتھ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر خدا تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنی ہے۔نظام جماعت ہے۔نظام جماعت سے مضبوط تعلق بھی میرے فائدہ کے لئے