خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 348

خطبات مسرور جلد ہشتم 348 28 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جولائی 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جولائی 2010ء بمطابق 09وفا 1389 ہجری شمسی بمقام بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مکرم احسان احمد خان صاحب شہداء کا جو ذکر خیر چل رہا ہے۔اسی سلسلے میں آج سب سے پہلے میں ذکر کروں گا۔مکرم احسان احمد خان صاحب شہید ابن مکرم و سیم احمد خان صاحب کا۔شہید مرحوم کے پڑدادا حضرت منشی دیانت خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔نارو ضلع کانگڑہ کے رہنے والے تھے۔یوسف زئی خاندان سے تعلق تھا۔شہید مرحوم کے پڑدادا کے دو بھائی حضرت شہامت خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت منشی امانت خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 1890ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی تھی۔اور 313 صحابہ میں شامل ہوئے۔مکرم ظہیر احمد خان صاحب مربی سلسلہ جو آجکل یہاں لندن میں ہیں ، شہید مرحوم کے چا ہیں۔جبکہ شہید مرحوم کے دوسرے بھائی ندیم احمد خان صاحب جامعہ احمد یہ ربوہ میں زیر تعلیم ہیں۔شہید مرحوم 1984ء میں پیدا ہوئے۔دو سال سے شیزان انٹر نیشنل میں ملازمت کر رہے تھے۔جبکہ جماعت احمدیہ سبھاں ضلع لاہور میں بطور سیکرٹری ( یہ پتہ نہیں کون سی جماعت ہے بہر حال ) بطور سیکر ٹری وقف جدید خدمت کی توفیق مل رہی تھی۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 26 سال تھی۔اور مسجد دارالذکر گڑھی شاہو میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے روز صبح غسل کے بعد نماز پڑھی اور تلاوت کی اور ملازمت کے لئے روانہ ہونے سے پہلے اہلیہ کو بتایا کہ میں یہ جمعہ دارالذکر میں پڑھوں گا۔اور ساتھ ہی بتایا کہ پچھلا جمعہ میرے سے رہ گیا تھا۔بیٹی کو اٹھا کر پیار کیا اور روانہ ہو گئے۔قریباً 1:35 پر مسجد دارالذکر سے اپنی والدہ محترمہ کو فون کر کے بتایا کہ یہاں دہشتگر د آگئے ہیں۔والدہ محترمہ کو تسلی دی، پھر اس کے بعد دوبارہ رابطہ نہ ہو سکا۔اس دوران دہشتگردوں نے جب گرنیڈ پھینکے اس کے شیل لگنے سے زخمی ہوئے۔جب غلط افواہ پھیلی کہ دہشتگر دمارے گئے ہیں اور باہر آجائیں تو باہر نکلنے پر دوبارہ گر نیڈ کے ٹکڑے لگنے سے شہید ہو گئے۔ربوہ میں تدفین ہوئی ہے۔تدفین سے قبل ان کے چچانے اپنے گھر ان کی نماز