خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 347

خطبات مسرور جلد ہشتم 347 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 غیر احمدی رہائش پذیر تھے۔کہتی ہیں کہ ان دنوں میں اتبا جان مولوی عبد المالک خان صاحب گھر پر موجود نہیں تھے۔غیر از جماعت نے ہمارے گھر پر تیل چھڑک کر آگ لگانے کا منصوبہ بنایا۔اس دوران امی نے بچوں کو اکٹھا کیا اور دعائیں کرتی رہیں کہ اگر خدا کو یہی منظور ہے تو ہم اس پر راضی ہیں۔اسی دوران خدا نے یوں فضل فرمایا کہ اوپر والی منزل پر جو غیر احمدی رہائش پذیر تھے وہ نیچے آئے اور آگ لگانے والوں کو کہا کہ ہم بھی اوپر رہائش پذیر ہیں، ہمارا گھر بھی جل جائے گا۔اس پر وہ وہاں سے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔انہوں نے اپنے بچوں کے علاوہ بے شمار بچے بچیوں کو قرآن کریم بھی پڑھایا۔دینی تربیت بہت اچھی طرح کرتی تھیں۔خدمت خلق کا جذبہ تھا۔اپنے نفس پر قربانی وارد کر کے بھی دوسروں کا خیال رکھتی تھیں۔ہر مشکل میں دعا کا دامن تھامے رکھتیں۔چندہ جات میں بڑی با قاعدہ تھیں۔ہر تحریک میں بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتیں۔ابتدا میں دین کا علم کم تھا لیکن سیکھنے کا شوق بہت تھا اس لئے اپنے شوہر سے بہت کچھ سیکھنے کی توفیق پائی۔اپنے خاوند کے مبلغ سلسلہ ہونے کی حیثیت سے بہت عزت کرتی تھیں۔نمازوں کی پابندی کرنے کے علاوہ نوافل بھی ادا کرتی تھیں۔قرآنِ شریف بہت شوق سے پڑھتی تھیں۔خدا تعالیٰ پر خود بھی تو کل رکھتی تھیں اور بچوں کے دلوں میں بھی بچپن سے اس بات کو راسخ کیا۔بہت با اخلاق، ملنسار ، منکسر المزاج ، مہمان نواز اور ہر دلعزیز خاتون تھیں۔خلافت سے بے انتہا وفا کا تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔مولوی عبد المالک خان صاحب جماعت کے بڑے پایہ کے عالم تھے اور ناظر اصلاح و ارشاد بھی رہے ہیں، مبلغ سلسلہ بھی رہے ہیں شروع میں جماعت کے حالات بھی ایسے تھے ، ایک دفعہ انہوں نے خود مجھے بتایا کہ ہم میاں بیوی بڑی تنگدستی سے گزارہ کرتے تھے ، الاؤنس اتنا ملتا تھا کہ مشکل سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔لیکن خود ہم روکھی سوکھی کھا لیتے تھے لیکن بچوں کو اچھا کھلایا اور اچھا پڑھایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ان کے سارے بچے پڑھے لکھے ہیں۔ان کے ایک بیٹے جو ہیں انور خان صاحب امریکہ میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعتی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا ان کی ایک بیٹی واقف زندگی ڈاکٹر ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کے پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ گائنا کالوجسٹ فضل عمر ہسپتال ربوہ۔شوکت گوہر صاحبہ ، ڈاکٹر لطیف صاحب کی اہلیہ ہیں۔اور ایک بیٹی ان کی ڈاکٹر صالح محمد الہ دین صاحب کی اہلیہ ہیں جو انڈیا میں ہیں اور آج کل میں نے ان کو صاحبزادہ مرزا وسیم صاحب کی وفات کے بعد سے صدر، صدر انجمن احمد یہ قادیان مقرر کیا ہوا ہے۔ان کی تقاریر بھی آپ نے سنی ہوں گی اچھے عالم آدمی ہیں۔اور ایک ان کے داماد سید حسین احمد مربی سلسلہ ہیں۔یہ سید حسین احمد ، حضرت میر محمد۔اسحاق صاحب کے نواسے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا نماز جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب ادا کروں گا۔باقی ذکر انشاء اللہ آئندہ۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 30 مورخہ 23 جولائی تا 29 جولائی 2010 صفحہ 5 تا 9)