خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 340
خطبات مسرور جلد ہشتم 340 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 دونوں خاندانوں کو سمجھایا۔اس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور بار بار یہ نصیحت کرتے تھے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے ہیں۔آپ کوشش کریں کہ اپنے گلے شکوے دور کر کے پھر اکٹھے ہو جائیں اور ناراضنگی جانے دیں۔عاجزی اور انکساری کمال کی تھی۔کوئی معاملہ در پیش ہو تا تو مجلس عاملہ کے اراکین کے سامنے رکھتے اور ان سے رائے لیتے۔آپ میں کمال کی شاری دیکھی۔کسی سے کوئی لغزش ہو جاتی تو اس کے لئے دعا بھی کرتے۔مرکز کو حالات لکھتے اور حالات سے آگاہ رکھتے اور اگر اصلاح دیکھتے تو اس کی اطلاع بھی مرکز کو کرتے۔جب تک یہ امیر ضلع رہے جماعت کے لئے ایک پر شفقت باپ کا کردار ادا کیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم ظفر اقبال صاحب اگلا ذکر ہے مکرم ظفر اقبال صاحب شہید ابن مکرم محمد صادق صاحب کا۔شہید مرحوم عارف والا ضلع لیہ کے رہنے والے تھے۔ابتدائی تعلیم عارف والا میں حاصل کرنے کے بعد لاہور شفٹ ہو گئے۔بی اے تک تعلیم لاہور میں حاصل کی۔اس کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔جہاں قیام کے دوران پانچ بار حج کرنے کی سعادت ملی۔پاکستان واپس آنے پر ٹرانسپورٹ لائن اختیار کی اور شہادت تک اسی سے وابستہ رہے۔ایک سال قبل مع فیملی بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 59 برس تھی۔دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔شہید مرحوم با قاعدگی سے تہجد کی ادائیگی کے لئے اٹھتے اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد کام کے سلسلے میں سات بجے گھر سے نکلتے۔28 مئی سانحہ کے دن نماز تہجد ادا کرنے کے بعد تلاوت کی اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد ناشتہ کر کے کام کے لئے گھر سے نکلے۔کام سے فارغ ہو کر مسجد دارالذکر پہنچے۔سانحہ کے دوران مسلسل بیٹے سے فون پر بات ہوتی رہی۔کہا کہ ہم چھپے ہوئے ہیں۔لیکن کہاں چھپے ہوئے تھے یہ نہیں بتایا اور بتایا کہ فائرنگ بہت ہو رہی ہے ، آپ دعا کریں۔اللہ خود ہی ہماری مدد کرے گا۔پھر بیٹی سے بھی بات کی تو یہی کہا کہ دعا کریں۔پھر بار بار فون کرنے سے منع کر دیا۔دہشتگردوں کی فائرنگ کے دوران ایک گولی آپ کے کندھے پر لگی۔مین گیٹ کے قریب ان کی لاش پڑی ہوئی تھی جس سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ جب وہ آپریشن مکمل ہونے کی غلط خبر پھیلی تو یہ باہر نکل کر آئے ہیں اور مینار پر موجود دہشتگر دنے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں گولی ان کے کندھے میں لگی جو تر چھی ہو کر دل کی طرف چلی گئی۔اس کے بعد جب ان کو اٹھا کر ایمبولینس میں ڈالا گیا تب تک ان کی نبض چل رہی تھی۔طبی امداد دینے کی کوشش کی گئی لیکن جانبر نہ ہو سکے اور جام شہادت نوش فرمایا۔شہید مرحوم کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے تاثرات لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔لیکن میرا ایمان اس قدر پختہ ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نیتوں کا حال جانتا ہے اور وہ جو بھی اپنے بندے کے لئے کرتا ہے وہ انسان کی سوچ سے بھی بہت بڑھ کر ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے میاں کو شہید کا جو رتبہ دیا ہے وہ اصل میں اس