خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 336
خطبات مسرور جلد ہشتم 336 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جولائی 2010 الٹی رکھی ہوئی تھی۔ان کے اہل خانہ کہتے ہیں عموماً پہلے نہیں ہوتی تھی اور جو صفحہ کھلا ہوا تھا اس پر الوداع کہنے کی دعا اور بلندی پر چڑھنے کی دعا تحریر تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم محمد یحییٰ خان صاحب اگلا ذ کر ہے مکرم محمد یحییٰ خان صاحب شہید ابن مکرم ملک محمد عبد اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔شہید مرحوم کے والد حضرت ملک محمد عبد اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دادا حضرت برکت علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابق ناظر اعلیٰ قادیان (بھارت) ان کے چچا تھے۔شہید مرحوم 1933ء میں قادیان میں پیدا ہوئے۔ان کی اپنی زندگی بھی ایک معجزہ تھی۔ان کے بڑے بھائی اور ان کی عمر میں 18 سال کا فرق تھا کیونکہ درمیان کی ساری اولاد چار سے پانچ سال کی عمر میں فوت ہو گئی اور ان کی صحت بھی چار پانچ سال کی عمر میں خراب ہو گئی۔ان کی والدہ صاحبہ ان کو لے کر حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئیں۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کو لے کر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئیں۔ان کی والدہ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پنجابی میں عرض کیا کہ ”حضور اے وی جاریا جے“ (کہ حضور یہ بھی جارہا ہے)۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو ( اس بچے کو گود میں لے لیا اور آپ کا نام شریف احمد سے بدل کر محمد بیچی رکھ دیا۔حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان دعاؤں کے طفیل آپ نے نہ صرف لمبی عمر پائی بلکہ شہید ہو کر ابدی حیات پاگئے۔پارٹیشن کے بعد فیصل آباد آگئے۔ہجرت سے قبل ان کی ڈیوٹی مینارۃ المسیح قادیان پر ہوتی تھی۔یہ دور بین لگا کر ارد گرد کے ماحول کی نگرانی کیا کرتے تھے۔سول انجینئر نگ کے بعد مختلف جگہوں پر تعینات رہے۔1982-1981ء میں بسلسلہ ملازمت عراق چلے گئے جہاں ان کو جماعت کو Establish کرنے کا موقع بھی ملا۔بوقت شہادت ان کی عمر 77 سال تھی۔بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے دوران مسجد کے مین ہال میں کرسیوں پر پہلی رو میں بیٹھے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔کسی دوست نے کہا کہ آپ پیچھے چلے جائیں تو کہا کہ گھبراؤ نہیں اللہ یہیں فضل کرے گا۔اس کے بعد عہدیداران کی ہدایت پر دیوار کے ساتھ نیچے بیٹھ گئے۔اسی دوران دہشت گرد نے گرنیڈ پھینکے جن میں سے ایک گرنیڈ کے پھٹنے سے ان کے سر کا پچھلا حصہ زخمی ہو گیا جس سے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ان کے دو بیٹے دارالذکر میں ڈیوٹی پر تھے جو کہ رات 12 بجے تک ریسکیو کا کام کرتے رہے۔حالانکہ ان کو والد صاحب کی شہادت کی اطلاع مل چکی تھی۔اہل خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم انتہائی حلیم طبیعت کے مالک تھے۔کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔جماعتی کاموں میں غیرت تھی۔بچوں کو جماعتی کاموں اور نمازوں میں کو تاہی کی صورت میں معافی نہیں ملتی تھی۔عرصہ دراز تک سیکرٹری تعلیم القرآن رہے۔لوگوں کو گھروں میں جا جا کر