خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 332

خطبات مسرور جلد ہشتم 332 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محمد 02 جولائی 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 02 جولائی 2010ء بمطابق 02 وفا 1389 ہجری شمسی بمقام بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج بھی لاہور کی مساجد کے شہداء کا ذکر خیر ہو گا۔مکرم عبد الرحمن صاحب پہلا نام آج کی فہرست میں ہے۔مکرم عبد الرحمن صاحب شہید ابن مکرم محمد جاوید اسلم صاحب کا۔شہید مرحوم نے اپنی والدہ ،خالہ اور چھوٹی بہن کے ہمراہ اگست 2008ء میں احمدیت قبول کی تھی۔نومبائع تھے۔حکمت کے تحت دیگر خاندان میں فوری طور پر اس کا اظہار نہیں کیا۔شہید مرحوم کا خیال تھا کہ MBBS کی تکمیل کے بعد دیگر تمام رشتے داروں کو بتا دیں گے۔میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ننھیال کی طرف سے ا سوائے نانا کے سب احمدی ہیں۔ان کی نانی محترمہ سعیدہ صاحبہ مرحومہ نہایت ہی مخلص احمدی تھیں۔بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔نہایت مخالفانہ حالات میں بھی وہ احمدیت سے وابستہ رہیں۔شہید مرحوم کی عمر شہادت کے وقت اکیس سال تھی اور دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔سانحہ کے روز شہید مرحوم کالج سے نماز جمعہ کے لئے سیدھے مسجد دارالذکر پہنچے۔مسجد کے مین ہال میں بیٹھے تھے تو والدہ کو فون پر بتایا کہ بہت گولیاں چل رہی ہیں، آپ فکر نہ کریں۔اور ساتھ ہی خالہ زاد بھائی کو فون کر کے کہا کہ اگر میری شہادت ہو جائے تو میری تدفین ربوہ میں کرنا۔ان کا خیال تھا کہ باقی عزیز رشتہ دار شاید ربوہ لے جانے نہ دیں۔شہید مرحوم کو تین گولیاں لگیں جس سے شہید ہو گئے۔ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی اس سانحہ میں شہید ہوئے جن میں ملک عبد الرشید صاحب، ملک انصار الحق صاحب اور ملک زبیر احمد صاحب شامل ہیں۔سانحہ کے بعد جب دیگر خاندان اور اہل محلہ کو علم ہو اتو ان کی خالہ کو ان کے شوہر نے گھر سے نکال دیا۔محلے میں بھی شدید مخالفت شروع ہو گئی۔دھمکیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔جنازہ کے لئے ان کے گھر میں بہت شور شرابہ ہوا اور شہید مرحوم کے خالو جو شدید مخالف ہیں، انہوں نے اور دوسرے رشتے داروں نے مل کر کہا کہ جنازہ یہیں پڑھیں گے۔اس