خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 17

خطبات مسرور جلد ہشتم 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 تعالیٰ نے کہا ہے کہ مالی قربانی کرو ، اللہ تعالیٰ کو قرض دو تو وہ صرف مال تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے اعمال بھی شامل ہیں جو ایک مومن کی روحانیت کی ترقی کا باعث بھی بنیں۔یعنی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے مال بھی پیش کرتا ہے اور اپنے اعمال بھی پیش کرتا ہے اور جب یہ مال اور اعمال خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو کئی گنا بڑھا کر لوٹاتا ہے۔یہ اس کا وعدہ ہے۔اللہ تعالیٰ کو تو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔مالی قربانی کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تو وہ ایک مومن کو نیک کام پر خرچ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتا ہے۔اعمال ہیں تو اللہ تعالیٰ کی خاطر بجا لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے بنتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے قرضہ حسنہ دو میں ضرورت مند ہوں۔فرمایا مجھے دو ،میری رضا کی خاطر خرچ کرو تا کہ میں اس کو کئی گنا بڑھا کر تمہیں واپس کر دوں۔تم جماعتی ضروریات کے لئے قربانی کرو گے تو میں تمہیں اس کا اجر دوں گا۔چندوں کی ادائیگی میں انقباض نہیں ہونا چاہیے پس جب خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مال خرچ کرنا ہے تو خرچ کرنے والے کے دل میں چندوں کی ادائیگی کے وقت کسی قسم کا انقباض نہیں ہونا چاہئے۔اس یقین پہ قائم ہو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مجھے خوشی سے قربانی کرنی چاہئے۔اور پھر یہ کہ کبھی دل میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ میں نے اتنا چندہ دیا ہے اس وجہ سے جماعتی کارندوں کو میرا شکر گزار ہونا چاہئے۔یا نظام کو میرا شکر گزار ہونا چاہئے۔بے شک جماعتی کارکن جو ہیں اس کام کے لئے وہ چندہ دینے والے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔رسید پر بھی جزاکم اللہ لکھا ہوتا ہے لیکن دینے والے کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے کوئی احسان نہیں کیا۔اُس نے تو خدا تعالیٰ سے اپنا مال بڑھانے کا سودا کیا ہے۔ایسا سودا کیا جو نہ صرف اس کا مال بڑھانے والا ہے بلکہ اس کی نیکیوں میں درج ہو کر مرنے کے بعد بھی اس کے کام آنے والا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی الله الم سورة الهكُمُ التَّكَاثُرُ پڑھ رہے تھے۔آپ نے اس کی تلاوت کے بعد فرمایا: ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال! میر امال! اے ابن آدم کیا کوئی تیرا مال ہے بھی؟ سوائے اس مال کے جو تو نے کھایا اور ختم کر دیا۔یا جو تو نے پہنا اور پرانا اور بوسیدہ کر دیا۔یا جو تو نے صدقہ کیا اور اسے آگے بھیج دیا۔(مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الدنيا سجن المومن وجنة الكافر حدیث 7314) پس مال کی تو یہ حقیقت ہے۔جو کھایا وہ بھی ختم ہو گیا۔لوگ کپڑوں سوٹوں، پوشاکوں،