خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 330

خطبات مسرور جلد ہشتم 330 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 نارووال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ان کے والد صاحب اور ان کے بڑے بھائی نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں بیعت کی اور اس سے قبل گاؤں میں مناظرہ کروایا جس کے نتیجے میں ان کے خاندان نے بیعت کر لی تھی۔بی۔اے ، بی۔ایڈ کرنے کے بعد محکمہ تعلیم جائن (Join) کیا۔1991ء میں بطور ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول کشمیر سے ریٹائر ہوئے اور اکتوبر 1992ء میں لاہور شفٹ ہو گئے۔اپنے حلقہ میں بطور محاسب خدمت کی توفیق پائی۔بوقت شہادت ان کی عمر 80 سال تھی اور مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔مسجد دارالذکر سے ان کو خاص لگاؤ تھا۔کہا کرتے تھے کہ جب لاہور میں زیر تعلیم تھا تو دارالذکر کی تعمیر کے سلسلہ میں وقار عمل میں شامل ہو تا تھا اس لئے دارالذکر سے خاص لگاؤ ہے۔وقوعہ کے روز نیا سوٹ اور نیا جو تا پہنا۔ایک بجے کے قریب دارالذکر کے مین ہال میں پہنچے، کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران گرینیڈ پھٹنے سے شہید ہو گئے۔چند ماہ پہلے اہلیہ نے خواب میں دیکھا کہ آواز آئی ہے ”مبارک ہو آپ کا خاوند زندہ ہے “۔اہل خانہ نے مزید بتایا کہ صاف گو انسان تھے۔تندرست اور Active تھے۔اپنی عمر سے 20 سال چھوٹے لگتے تھے۔تعلیم الاسلام کالج میں روئنگ کی ٹیم کے کیپٹن تھے۔مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا۔جماعتی لٹریچر کے علاوہ دیگر مذاہب کا لٹریچر بھی زیر مطالعہ رہتا تھا۔مکرم شیخ مبشر احمد صاحب اگلا ذ کر ہے مکرم شیخ مبشر احمد صاحب شہید ابن مکرم شیخ حمید احمد صاحب کا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد قادیان کے رہنے والے تھے ، پارٹیشن کے بعد ربوہ آگئے اور 35 سال سے لاہور میں مقیم تھے۔پھر ربوہ سے لاہور چلے گئے۔ان کے دادا مکرم شیخ عبد الرحمن صاحب نے خلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کرنے کی توفیق پائی۔حضرت مہر بی بی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، صحابیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی نانی تھیں۔بوقت شہادت ان کی عمر 47 سال تھی اور مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔بیت النور کے پچھلے ہال کی تیسری صف میں بیٹھے ہوئے تھے۔دہشتگرد کے آنے پر دروازہ بند کرنے کی کوشش کی مگر ایک گولی ان کے پیٹ میں دائیں طرف لگ کر باہر نکل گئی۔بعد میں گرینیڈ پھٹنے سے بھی مزید زخمی ہوئے۔اور کان سے بھی کافی دیر تک خون نکلتا رہا۔باوجو د اس کے بعد میں بھی دو تین گھنٹے یہ زندہ رہے ہیں ، پیٹ پر ہاتھ رکھ کر خود چل کر ایمبولینس تک گئے لیکن ایمبولینس میں ہسپتال جاتے ہوئے شہید ہو گئے۔سانحہ کے روز بظاہر حالات اس نوعیت کے تھے کہ نماز جمعہ پر جانا مشکل تھا لیکن خدا تعالیٰ نے شہادت کا رتبہ دینا تھا اس لئے بالآخر بیت النور پہنچ گئے۔شہید مرحوم ہر جمعہ کو اپنے بیمار نحسر کو نماز کے لئے لے جایا کرتے تھے۔اس مرتبہ ان کی طبیعت ناساز تھی اور انہوں نے کہا کہ میں نے اس دفعہ جمعہ پر نہیں جانا۔چنانچہ اکیلے خود ہی جمعہ کیلئے نکلے۔راستے میں گاڑی خراب ہو گئی گاڑی کو ورکشاپ پہنچایا اس کے بعد اپنے قریبی کام کرنے والی جگہ پر چلے گئے تاکہ بعض امور نمٹا سکیں۔وہاں پہنچے ابھی کام شروع کیا ہی تھا تو لائٹ