خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 324
خطبات مسرور جلد ہشتم مکرم شیخ محمد اکرام اطہر صاحب 324 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 مکرم شیخ محمد اکرام اطہر صاحب شہید ابن مکرم شیخ شمس الدین صاحب۔شہید مرحوم کے والد صاحب چنگڑانوالہ ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔طاعون سے جب سب رشتے دار وفات پاگئے تو مڈھ رانجھا ضلع سر گودھا میں آکر آباد ہوئے۔شہید مرحوم کے والد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بعد میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت کرنے یعنی دبانے کا موقع ملا۔تاہم بیعت کی سعادت حضرت مصلح موعودؓ کے دورِ خلافت میں ملی۔شہید مرحوم کے خسر مکرم خواجہ محمد شریف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ان کے والد محترم شیخ شمس الدین صاحب کی تبلیغ کی وجہ سے حضرت مرزا عبد الحق صاحب کے خاندان میں احمدیت آئی۔مولوی عطاء اللہ خان صاحب درویش قادیان ان کے بھائی تھے اور مکرم منیر احمد منور صاحب مربی سلسلہ جو یہاں (جرمنی میں) بھی رہے ہوئے ہیں آج کل پولینڈ میں ہیں ، ان کے بھانجے ہیں۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 66 سال تھی۔مسجد دارالذکر گڑھی شاہو میں جام شہادت نوش فرمایا۔مسجد دارالذکر کے مین ہال میں کرسیوں پر بیٹھے تھے۔بڑھاپے کے باعث سانحے کے دوران سب سے آخر میں اٹھے۔لیکن اس دوران دہشتگرد کی گولیاں سر اور پسلیوں میں لگنے سے شہید ہو گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ شہید مرحوم دو تین ماہ سے کہہ رہے تھے کہ میر ا وقت قریب آگیا ہے۔کچھ عرصے سے بالکل خاموش رہتے تھے۔ان کی بہو نے خواب میں دیکھا کہ ربوہ میں انصار اللہ کا ہال ہے (جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ) تو وہاں سے مجھے تین تحفے ملے ہیں اور وہ لے کر میں لاہور روانہ ہو رہی ہوں۔شہداء کے سب کے جنازے بھی انصار اللہ کے ہال ہی میں ہوئے تھے۔شہید مرحوم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔قریبی دیہاتی علاقوں میں جاکر مختلف لوگوں سے گھروں میں رابطہ کر کے تبلیغ کیا کرتے تھے۔خاص طور پر الفضل جیب میں ڈال کر لے جاتے۔سگریٹ نوشی کے خلاف بڑا جہاد کیا کرتے تھے اور چلتے چلتے لوگوں کو منع کر دیتے اور کوئی دوسری چیز کھانے کی دے کر کہتے کہ یہ کھالو اور سگریٹ چھوڑ دو۔تہجد گزار تھے۔نیک عادات کی بنا پر ان کا رشتہ ہوا تھا یعنی عبادت اور تبلیغ کی وجہ سے۔بہت دعا گو اور تہجد گزار تھے۔خاص طور پر بہت سارے لوگوں کے نام لے کر دعا کیا کرتے تھے۔چندوں میں با قاعدہ تھے ، تنخواہ ملنے پر پہلے سیکر ٹری صاحب مال کے گھر جاتے اور چندہ ادا کرتے۔یہ ہے صحیح طریق چندے کی ادائیگی کا، نہ کہ یہ کہ جب بقایا دار ہوتے ہیں اور پوچھو کہ بقایا دار کیوں ہو گئے تو الٹا یہ شکوہ ہوتا ہے کہ سیکرٹری مال نے ہمیں توجہ نہیں دلائی، نہیں تو ہم بقایا دار نہ ہوتے۔یہ تو خود ہر ایک کا اپنا فرض ہے کہ چندہ ادا کرے۔خلافت جوبلی کے سال میں مقالہ تحریر کیا جس میں A گریڈ حاصل کیا۔