خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 315
خطبات مسرور جلد ہشتم 315 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 میں نہیں ملا۔لیکن اس کی قیمت پچاس لاکھ روپے تھی۔انہوں نے کہا میں ادا کر دوں گا۔بہر حال وہ تو نہیں ملا لیکن اس کے مقابلے پر ایک اور کو ٹھی چوالیس لاکھ روپے کی مل گئی، جس کی قیمت انہوں نے ادا کی اور جو جماعت کے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔اس سے پہلے مسجد کے لئے بھی کافی بڑی رقم دے چکے تھے لیکن کبھی یہ نہیں کہا کہ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے میں نے رقم دی ہے۔خلافت جو بلی کے موقع پر لاہور کی طرف سے جو قادیان میں گیسٹ ہاؤس بنا ہے ، اس کی تعمیر کے لئے بھی انہوں نے دس لاکھ روپیہ دیا۔خدام الاحمدیہ گیسٹ ہاؤس جو ربوہ میں ہے اس کی رینوویشن (Renovation) کے لئے انہوں نے بڑی رقم دی۔غرض کہ مالی قربانیوں میں پیش پیش تھے ، وقت کی قربانی میں بھی پیش پیش تھے۔اطاعت اور تعاون اور واقفین زندگی اور کارکنان کی عزت بھی بہت زیادہ کیا کرتے تھے۔پیسے کا کوئی زعم نہیں۔جتنا جتنا ان کے پاس دولت آتی گئی میں نے ان کو عاجزی دکھاتے ہوئے دیکھا ہے۔مکرم چوہدری اعجاز نصر اللہ خان صاحب دوسرے شہید ہیں مکرم چوہدری اعجاز نصر اللہ خان صاحب ابن مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب به حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھتیجے تھے۔اور چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب جو سابق امیر ضلع لاہور ہیں ان کے چچا زاد بھائی تھے۔ان کو بھی جماعتی خدمات بجالانے کا موقع ملتا رہا۔چار خلفائے احمدیت کے ساتھ کام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ان کے والد مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب سابق امیر ضلع لاہور تھے۔ان کی ابتدائی تعلیم قادیان کی تھی۔میٹرک اور گریجویشن لاہور سے کی۔انہوں نے لائر زان کالج لندن سے بار ایٹ لاء کیا۔کچھ عرصہ لندن میں پریکٹس کی۔پھر والد صاحب کی بیماری کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر واپس آگئے اور پھر حضور رحمہ اللہ کے ارشاد پر ہی اسلام آباد میں سیٹ ہو گئے اور 1984ء میں ریٹائر ڈ ہوئے۔پھر انہوں نے کوئی دنیاوی کام نہیں کیا بلکہ جماعتی کام ہی کرتے رہے۔متعد د جماعتی عہدوں پر ان کو خدمت کی توفیق ملی۔سابق امیر جماعت اسلام آباد ، نائب امیر ضلع لاہور ، ممبر قضاء بورڈ، ممبر فقہ کمیٹی کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 83 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور دار الذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ کے دن تیار ہو کر کمرے سے نکلے تو کمرے سے نکلتے ہی کہا کہ کمزوری بہت ہو گئی ہے۔پھر ناشتہ کیا اور بیٹے کو کہا کہ میں نے بارہ بجے چلے جانا ہے۔تو بیٹے نے کہا کہ اتنی جلدی جا کر کیا کرنا ہے۔تو جواب دیا کہ میرا دل نہیں چاہتا کہ لوگوں کے اوپر سے پھلانگ کر جاؤں اور پہلی صف میں بیٹھوں۔بیٹا اور پوتا ساتھ تھے۔بیٹے نے ڈیوٹی پر جانے سے پہلے کہا کہ پوتے کو اپنے ساتھ بٹھا لیں۔پہلے یہ ہمیشہ ساتھ بٹھایا کرتے تھے۔انہوں نے کہا نہیں اس