خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 314
314 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کے حل کے لئے آتے اور بڑا مشورہ اچھا دیا کرتے تھے۔اسی لئے مرکزی صنعتی بورڈ کے ممبر بھی بنائے گئے تھے۔بڑے ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھے۔ہر مشکل کام جو بھی ہوتا ان کے سپرد کیا جاتا بڑی خوشی سے لیتے، بلکہ کہہ دیتے تھے انشاء اللہ ہو جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو صلاحیت دی ہوئی تھی اس کو بخوبی سر انجام دیتے تھے۔انہیں دوسروں سے کام لینے کا بھی بڑا فن آتا تھا۔بہت نرم گفتار تھے ، اخلاق بہت اچھے تھے۔مثلاً یہ ضروری نہیں ہے کہ جو اپنے سپر د فرائض ہیں انہی کو صرف انجام دینا ہے۔اگر کبھی سیکر ٹری وقف جدید نے کہہ دیا کہ چندہ اکٹھا کرنا ہے میرے ساتھ چلیں۔گو ان کا کام نہیں تھا لیکن ساتھ نکل پڑتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے مسجد بیت الفتوح کی جب تحریک کی ہے تو فوراً فیکس کے ذریعے اپنا وعدہ کیا اور وعدہ فوری طور پر ادا بھی کر دیا۔چوہدری منور علی صاحب سیکرٹری امور عامہ بیان کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ قادیان کے انتظامات میں ان کے پاس ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہو تا تھا اور انتہائی خوبی سے یہ کام کرتے تھے۔بسوں، کاروں اور دیگر ٹرانسپورٹ کا کام انتہائی ذمہ داری سے کرتے تھے اور یہ ہے کہ سارا دن کام بھی کر رہے ہیں اور ہنستے رہتے تھے۔بڑے خوش مزاج تھے۔امریکہ شفٹ ہونے کے باوجود 2009ء کا ( قادیان کا) جو جلسہ ہوا ہے اس میں پاکستان آئے اور اس کام کو بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیا۔قادیان جانے والے جو لوگ تھے ان کی مدد کی۔میرے ساتھ بھی ان کا تعلق کافی پرانا خدام الاحمدیہ کے زمانہ سے ہے۔مرکز سے مکمل تعاون اور اطاعت کا نمونہ تھے۔جیسے بھی حالات ہوں جس وقت بلاؤ فوراً اپنے کام کی پروانہ کرتے ہوئے حاضر ہو جایا کرتے تھے۔عام طور پر بزنس مین اپنے بزنس کو چھوڑا نہیں کرتے۔اب بھی جب یہاں سے گئے ہیں، مجھے لندن مل کے گئے ہیں اور گو حالات کی وجہ سے میں نے ان کو کہا بھی تھا کہ احتیاط کریں، بہر حال اللہ تعالیٰ نے شہادت مقرر کی تھی، شہید ہوئے۔ان کو یہ بھی فکر تھی کہ جو پرانے بزرگ ہیں، جو پرانے خدمتگار ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانے میں پہل کرنے والے ہیں، ان کی بعض اولا دیں جو ہیں وہ خدمت نہیں کر رہیں۔تو یہ بھی ان کو ایک بڑا درد تھا اور میرے ساتھ درد سے یہ بات کر کے گئے اور بعض معاملات میرے پوچھنے پر بتائے بھی اور ان کے بارے میں بڑی اچھی اور صاف رائے بھی دی۔رائے دینے میں بھی بہت اچھے تھے۔سابق امیر صاحب گوجر انوالہ نے لکھا کہ سولنگی صاحب کہا کرتے تھے کہ خلافت کے مقابلے پہ کوئی دوستی اور رشتے داری کسی قسم کی حیثیت نہیں رکھتی۔1974ء میں سولنگی صاحب کے خاندان کے بعض افراد نے کمزوری دکھائی۔یہ اس وقت بہت کم عمر تھے مگر اپنے خاندان کو اسی حالت میں چھوڑ کر امیر جماعت چوہدری عبدالرحمن صاحب کے گھر چلے گئے جہاں ساری جماعت پناہ گزین تھی اور وہاں ڈیوٹیاں دینی شروع کر دیں۔چوہدری صاحب پر بھی ان کی اس قربانی کا بڑا اثر تھا۔جیسا کہ میں نے کہا مالی قربانی کی بھی بڑی توفیق ملی۔یہ سابق امیر صاحب لکھتے ہیں کہ کھلے دل سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والے تھے۔ایک دفعہ ایک پلاٹ مل رہا تھا جو بعد