خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 313

خطبات مسرور جلد هشتم 313 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 کے صحابی تھے۔مکرم عبد القادر سوداگر مل صاحب بھی ان کے عزیزوں میں سے تھے۔پارٹیشن کے بعد یہ لوگ گوجر انوالہ شفٹ ہو گئے۔شہید نے گورنمنٹ کالج لاہور سے الیکٹریکل انجنیئر نگ کرنے کے بعد پانچ سال واپڈا میں ملازمت کی، پھر اپنے والد صاحب کے ساتھ کاروبار شروع کر دیا۔والد صاحب کی وفات کے بعد اپنا کاروبار شروع کیا۔1997ء میں یہ لاہور آگئے اور یہاں کاروبار کرتے رہے اور ایک سال پہلے گارمنٹس کے امپورٹ کا امریکہ میں کاروبار شروع کیا اور امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔اس سے قبل پاکستان میں بھی کافی عرصہ ٹھہر کے کاروبار کرتے رہے ہیں۔بطور ناظم اطفال انہوں نے پاکستان میں خدمات سر انجام دیں۔قائد ضلع، قائد علاقہ مجلس خدام الاحمدیہ ضلع گوجر انوالہ، مجلس انصار اللہ علاقہ لاہور ، مرکزی مشاورتی بورڈ برائے صنعت و تجارت کے صدر اور ممبر کے علاوہ جنرل سیکرٹری ضلع لاہور کی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 51 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ان کی مسجد دارالذکر میں شہادت ہوئی ہے۔شہید ایک ماہ قبل امریکہ سے پاکستان اپنے کاروبار کے سلسلے میں آئے تھے اور نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد دارالذکر پہنچے تھے۔حملہ کے دوران صحن میں سیڑھیوں کے نیچے باقی احباب کے ساتھ قریباً ایک گھنٹہ رہے۔شائد بیسمنٹ میں چلے جاتے لیکن انہوں نے دیکھا کہ ایک زخمی بھائی ہے اس کو بچانے کے لئے سیڑھیوں سے نیچے کھینچنے کی کوشش میں دہشتگرد کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے اور ان کے سینے کی دائیں طرف گولی لگی۔کافی دیر تک زخمی حالت میں سیڑھیوں کے نیچے رہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کی شہادت منظور تھی، اس لئے مسجد میں ہی شہادت کا رتبہ پایا۔جب دارالذکر پر حملہ ہوا تو انہوں نے اپنے بڑے بیٹے شعیب سولنگی کو فون کیا کہ اس طرح حملہ ہوا ہے ، بس دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ سب کو محفو ظ ر کھے اور گھر والوں کو بھی دعا کے لئے کہو۔انتہائی مخلص مالی جہاد میں پیش پیش تھے ، ان کو چھوٹی عمر سے ہی اعلیٰ جماعتی عہدوں پر کام کرنے کی سعادت ملی۔جماعتی خدمت کا بھر پور جذبہ رکھتے تھے۔ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔مالی قربانیوں میں ہمیشہ سبقت لے جانے والے تھے۔گوجرانوالہ میں محلہ بھگوان پورہ میں مسجد تعمیر کروائی۔دار الضیافت ربوہ کی reception کے لئے انہوں نے خرچ دیا۔محنتی اور نیک انسان تھے۔اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف بڑی توجہ دیتے رہے۔ہر کام شروع کرنے سے پہلے خلیفہ وقت سے اجازت اور اور رہنمائی لیتے تھے۔ان میں خلافت کی اطاعت بے مثال تھی۔ان کا بزنس پاکستان میں تھا۔ان کے کاروباری اور بعض دوسرے حالات کی وجہ سے میں نے ان کو کہا کہ امریکہ چلے جائیں۔تو لاہور سے اسی وقت فوری طور پر وائنڈ آپ کر کے امریکہ چلے گئے۔انہوں نے بہت سے احمدی بے روز گار افراد کی ملازمت کے سلسلہ میں مدد کی۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں ہماری گھر یلو زندگی بھی بڑی مثال تھی۔مثالی باپ تھے ، مثالی شوہر تھے۔ہر طرح سے بچوں کا اور بیوی کا خیال رکھنے والے۔دروازے پر کوئی ضرور تمند آجاتا تو کبھی اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔لوگ آپ کے پاس اپنے مسائل