خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 312
خطبات مسرور جلد ہشتم 312 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جون 2010 کہ مختلف شعبہ جات ہوتے ہیں اور ہر شعبے کا ہر افسر اور ہر کارکن مہمانوں کی خدمت کے لئے مقرر ہے۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جماعت اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے پیش کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً محض اللہ بے نفس ہو کر خدمت سر انجام دیتے ہیں۔ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ہیں، جو ان بھی ہیں اور بوڑھے بھی ہیں اور بچے بھی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے فرائض انجام دینے والا ہے۔پس شاملین جلسہ ان کارکنان سے مکمل طور پر تعاون کریں۔جلسہ کے بہترین انتظامات کے حصول کے لئے بعض اصول و قواعد انتظامات کے لئے بنائے جاتے ہیں اور بنائے گئے ہیں۔پس اگر کوئی کارکن کسی مہمان کو اس طرف توجہ دلاتا ہے تو اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ کسی بات پر ناراض ہو جائیں۔کارکنان کو تو میں پہلے ہی کہ چکا ہوں کہ وہ خوش اخلاقی سے اپنے فرائض ادا کریں۔دوسری اہم بات جو شامل ہونے والوں کو خاص طور پر میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ خاص طور پر اپنے گردو پیش پر نظر رکھیں۔اپنے ماحول پر نظر رکھیں۔سکیورٹی انتظامات کے باوجود کوئی شریر عصر شرارت کر سکتا ہے۔جبکہ آج کل ہر جگہ مخالفین کے منصوبے جماعت کو نقصان پہنچانے یا کم از کم بے چینی پیدا کرنے کے ہیں۔جلسہ میں بھی وہ باوجود تمام تر سکیورٹی کے بعض دفعہ دھوکے سے بھی داخل ہو سکتے ہیں۔سکیورٹی کا تو پورا انتظام ہے، اس لئے سکیورٹی کے انتظام سے خاص طور پر مکمل تعاون کریں۔دس مرتبہ بھی آپ کو اپنے آپ کو چیک کرانے کے لئے پیش کرنا پڑے تو پیش کریں۔یہ آپ کی ہتک یا کسی قسم کے شک کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ آپ کی حفاظت کے لئے ہے۔اسے کسی قسم کا آنا کا مسئلہ نہ بنائیں۔کسی کے ساتھ اگر کوئی مہمان بھی آرہا ہے تو اسے اسی صورت میں اجازت ہو گی جب انتظامیہ کی طرف سے اجازت ہو گی اور ان کی تسلی ہو گی۔یا جو بھی انتظامیہ نے اس کے لئے طریقہ کار مقرر کیا ہوا ہے اس سے گزرنا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور جلسہ سے حتی المقدور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔اب میں خطبہ کے مضمون کی طرف آتا ہوں اور آج کے خطبہ کا مضمون بھی انہی شہداء کے ذکر خیر پر ہی ہے جنہوں نے اپنی جان کی قربانیاں دے کر ہماری سوچوں کے نئے راستے متعین کر دیئے ہیں۔مکرم خلیل احمد صاحب سولنگی آج کی فہرست میں سب سے پہلا نام جو میرے سامنے ہے ، مکرم خلیل احمد صاحب سولنگی شہید ابن مکرم نصیر احمد سولنگی صاحب کا ہے۔یہ ترتیب کوئی خاص وجہ سے نہیں ہے، جس طرح کوائف میرے سامنے آتے ہیں میں وہ بیان کر رہا ہوں۔مکرم خلیل احمد سولنگی صاحب شہید کے آباؤ اجداد کا تعلق قادیان کے ساتھ گاؤں کھارا تھا، وہاں سے ہے۔ان کے دادا حضرت ماسٹر محمد بخش سولنگی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام