خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 308 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 308

خطبات مسرور جلد ہشتم 308 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 حضرت امام حسین اور حضرت علی کو دیکھا۔وہ آئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے بارے میں ان کو بتایا تو دوبارہ انہوں نے بیعت کرلی اور بڑے فعال کارکن تھے۔فطرت نیک تھی۔اللہ تعالیٰ نے خود ان کی رہنمائی فرما دی۔احمدیت کا بہت علم تھا، بہت تبلیغ کرتے تھے، انہوں نے بہت ساری بیعتیں بھی کروائیں۔دعوت الی اللہ کے شیدائی تھے۔بڑے بڑے مولویوں کو لاجواب کر دیتے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 30 سال تھی۔بطور نائب ناظم اصلاح و ارشاد خدمت کی توفیق ملی۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔دارالذکر میں نماز جمعہ کے وقت حملے کے وقت یہ بیرونی گیٹ سے فائرنگ کی آواز آئی۔تو یہ نہایت پھرتی سے کر النگ (Crawling) کرتے ہوئے باہر نکلے اور جلدی سے واپس آکر مین ہال کی طرف جانے والے اندرونی گیٹ کو بند کیا اور ہال کے مین گیٹ میں دروازے بند کروائے۔حملے کے دوران مسلسل فون سے گھر رابطہ رکھا اور اپنے چچا سے دعا کے لئے کہتے رہے اور کہا کہ میں اوپر جا رہا ہوں میرے لئے دعا کریں۔ایک عینی شاہد دوست نے بتایا کہ حملہ کے شروع میں ہی ہال کے اندر آئے اور زور سے آوازیں دینی شروع کر دیں کہ اگر کسی کے پاس اسلحہ ہے تو مجھے دو کیونکہ دہشتگر داندر آگئے ہیں۔(وہاں لوگ مسجد میں نمازیں پڑھنے آئے تھے ، اسلحہ لے کر تو نہیں آئے تھے ) اس کے بعد جب اندر فائرنگ سے لوگ زخمی ہوئے اور جب دہشتگر دہال سے اوپر گئے تو یہ موقع پا کر بڑی پھرتی سے کر النگ (Crawling) کرتے ہوئے زخمی بزرگان کو پانی پلاتے رہے۔پولیس اور انتظامیہ یہی اعتراض کر رہی ہے نہ کہ آپ لوگ کیوں نہیں اسلحہ لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔یہ غیر احمدیوں کا مقام ہے کہ وہ لے کر بیٹھ سکتے ہیں لیکن احمدی نہیں۔یا پولیس بالکل ہاتھ اٹھالے اور کہہ دے کہ اپنی حفاظت کا خود انتظام کریں۔بہر حال مسلسل موقع کی تلاش میں رہے کہ دہشتگرد کو پکڑیں۔بالآخر موقع پا کر نہایت بہادری سے دہشتگرد کو پکڑا جس کی وجہ سے دہشتگرد نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔دھماکے کی وجہ سے یہ بھی شہید ہو گئے۔ان کو شروع میں معلوم ہو چکا تھا کہ ان کے بھائی مکرم انہیں احمد صاحب شہید ہو چکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود بڑی بہادری سے لوگوں کی مدد کرتے رہے۔ان کے گھر بڑے عرصے سے باہر منافرت پھیلانے والے اشتہارات اور پوسٹر چسپاں تھے۔اس سے پہلے بھی غیر از جماعت انتشار پسند ایسی کارروائیاں کرتے رہتے تھے بچوں کے ذریعے سے ہی کام کرواتے ہیں۔لیکن شہید مرحوم نے پوسٹر لگانے والے بچوں کو بڑے پیار اور اخلاق سے سمجھایا اور بچوں کو اثر بھی ہو گیا ان کو سمجھ بھی آگئی۔لیکن پھر وہ بڑوں کے کہنے پر مجبور تھے ، لگا جایا کرتے تھے۔ان کے ناظم اصلاح وارشاد صاحب ضلع منور احمد صاحب نے بتایا کہ سانحہ سے تقریباً ایک ڈیڑھ ماہ قبل انہوں نے اپنی ایک خواب مجھے بتائی۔خواب میں ان کی وفات یافتہ والدہ ملی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ میں نے تمہارا کمرہ تیار کر لیا ہے، میں تمہیں بلالوں گی۔حافظ مظفر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ اپنے عزیزوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا بلکہ پچھلے سال شادی ہوئی ہے تو اپنی بیوی کو بھی پہلے دن ہی کہہ دیا کہ میں نے تو شہید ہو جانا ہے ، اس لئے میرے شہید ہو جانے کے بعد کوئی واویلا نہ کرنا۔