خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 307

خطبات مسرور جلد ہشتم 307 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 میں بیٹھ گئے۔جب دہشتگر دنے اپنی کارروائی شروع کی اور مربی صاحب نے دعا کے لئے کہا تو انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنی شروع کر دی۔دعا کے دوران ہی ایک گولی ان کے بائیں بازو میں لگی اور دوسری دل کے پاس، جس سے موقع پر ہی ان کی شہادت ہو گئی۔بہت ہمدرد انسان تھے۔بینک میں اپنے لیول کے آفیسر سے اتنی دوستی نہیں تھی جتنی کہ ان کی اپنے ماتحت ورکر سے دوستی تھی۔اپنے گھر میں نماز سینٹر بنایا ہوا تھا۔اور پہلی منزل صرف نماز سینٹر کے لئے ہی تعمیر کروائی تھی۔خلافت سے بہت عشق تھا۔ان کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ جماعتی کام سے واپس آتے ہوئے اگر رات کے تین بج جاتے تو ہمیں کچھ نہیں کہتے تھے۔لیکن اگر کسی اور کام سے ہم گھر سے باہر جاتے اور عشاء کی نماز سے لیٹ واپسی ہوتی تو بڑی ڈانٹ پڑا کرتی تھی۔سخاوت ان کی زندگی کا ایک بڑا خُلق تھا۔لوگوں کو بڑی بڑی چیزیں مفت بھی دے دیا کرتے تھے۔مربیان سلسلہ سے بہت لگاؤ ہوتا۔ان کی بہت عزت کرتے تھے اور مہمان نوازی کرتے تھے۔جہاں بھی گھر لیا حلقے کا مرکز اور سینٹر اپنے گھر کو ہی بنانے کی کوشش کرتے تھے۔بہت ملنسار تھے۔مکرم انیس احمد صاحب مکرم انیس احمد صاحب شہید ولد مکرم صوبیدار منیر احمد صاحب۔شہید مرحوم کا خاندان ضلع فیصل آباد سے تھا جہاں سے بعد میں لاہور شفٹ ہو گئے۔میٹرک کی تعلیم کے بعد کمپیوٹر ہارڈویئر کا کام کرتے تھے۔گلبرگ میں ان کا آفس تھا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 35 سال تھی۔نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے عمو من ماڈل ٹاؤن جایا کرتے تھے۔سانحہ کے روز کسی کام سے نکلے اور نماز جمعہ کے لئے مسجد دارالذکر چلے گئے۔اپنے والد صاحب کے ساتھ محراب کے قریب ہی بیٹھے تھے۔فائرنگ شروع ہو گئی تو والد صاحب نے چھپنے کے لئے کہا تو جو ابا کہا کہ آپ چھپ جائیں میں ادھر لوگوں کی مدد کر تا ہوں اور اس دوران دہشتگرد کی گولیوں سے شہید ہو گئے۔بیوی بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔اسی طرح والد صاحب کی بہت اطاعت کرتے تھے۔سسرالی رشتے داروں سے بھی بھائیوں جیسا تعلق تھا۔خدمت خلق کا بہت شوق تھا۔ایک جگہ کسی احمدی دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تو اس وقت فوری طور پر خون نہیں مل رہا تھا اپنا خون بھی دیا اور پھر اس نے علاج کے لئے قرض کے طور پر پانچ ہزار یا جتنے بھی پیسے مانگے تو وہ دے دیے اور قرض واپس بھی نہیں لیا۔اپنے بیٹے کو با قاعدگی سے قرآن کلاس کے لئے بھجواتے تھے۔اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اس سانحے میں ان کے چھوٹے بھائی مکرم منور احمد صاحب بھی شہید ہو گئے ہیں۔مکرم منور احمد صاحب مکرم منور احمد صاحب شہید ابن مکرم صوبیدار منیر احمد صاحب۔اپنے بھائی کی طرح ان کا تعلق بھی فیصل آباد سے تھا۔پیدائشی احمدی تھے ، لیکن کچھ عرصہ شیعہ عقائد کی طرف مائل رہے ، کیونکہ انہوں نے اپنی نانی جو ذاکرہ تھیں، ان کے پاس پرورش پائی تھی۔پھر یہ ذاکر اور پیر بن گئے تھے۔اور اسی دوران انہوں نے خواب میں