خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 303

خطبات مسرور جلد ہشتم 303 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 جمعہ کو جب دو بجے فون کیا تو انہوں نے کہا کہ خیریت سے ہوں۔میں نے کہا کہ آپ وہاں سے نکل آئیں تو انہوں نے کہا یہاں بہت لوگ پھنسے ہوئے ہیں میں ان کو چھوڑ کر نہیں آسکتا۔بچوں کی تربیت کے بارے میں خاص طور پر وقف نو بچوں کے بارے میں فکر مند رہتے تھے اور جماعتی ڈیوٹیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔چوہدری محمد مالک صاحب چوہدری محمد مالک صاحب چدھڑ شہید ابن مکرم چوہدری فتح محمد صاحب۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد گکھڑ منڈی کے رہنے والے تھے ، وہاں سے گوجر انوالہ اور پھر لاہور شفٹ ہو گئے۔ان کی پیدائش سے قبل ہی ان کے والد صاحب وفات پاگئے تھے۔میٹرک میں پڑھتے تھے کہ والدہ نے بازو میں پہنی ہوئی سونے کی چوڑی اتار کر ہاتھ میں دے دی کہ جا کر پڑھو۔مرے کالج سیالکوٹ سے بی۔اے کیا۔سپر نٹنڈنٹ جیل کی نوکری ملتی تھی لیکن نہیں کی بلکہ زمیندارہ کرتے رہے۔اسی سے بچوں کو تعلیم دلوائی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 93 سال تھی اور موصی بھی تھے۔اب اس عمر میں جانا تو تھا ہی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ رتبہ عطا فرمایا۔مسجد بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی۔اہل خانہ بتاتے ہیں کہ ان کو بڑھاپے کی وجہ سے بھولنے کی عادت تھی جس کی وجہ سے تقریباً سات آٹھ جمعے چھوڑے۔اور 28 مئی کو جمعہ پر جانے کے لئے بہت ضد کر رہے تھے۔ان کی بہو بتاتی ہیں کہ ان کو کہا گیا کہ باہر موسم ٹھیک نہیں ہے ، آندھی چل رہی ہے اس لئے آپ جمعہ پر نہ جائیں۔بچوں کی بھی یہی خواہش تھی کہ جمعہ پر نہ جائیں۔لیکن نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے تیار ہو کر گھر سے چلے گئے۔عموما مسجد کے صحن میں کرسی پر بیٹھ کر نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔ہمیشہ کی طرح سانحے کے روز بھی صحن میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور حملے کے شروع میں ہی گولیاں لگنے سے شہادت ہو گئی۔بہت امن پسند تھے کبھی کسی سے زیادتی نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب بہت شوق سے پڑھتے تھے اور گھر والوں کو بھی تلقین کرتے تھے۔ان کے صاحبزادے داؤد احمد صاحب بتاتے ہیں کہ جب میں نے ایم اے اکنامکس پاس کیا والد صاحب سے ملازمت کی اجازت چاہی تو انہوں نے جواب دیا کہ میری نوکری کر لو۔میں نے کہا وہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا تم با قاعدہ دفتر کی طرح تیار ہو کر صبح نو بجے آنا، در میان میں وقفہ بھی ہو گا اور شام پانچ بجے چھٹی ہو جایا کرے گی۔اور یہاں میز پر بیٹھ جاؤ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پڑھا کرو اور اپنی نوکری سے جتنی تنخواہ ملنے کی تمہیں امید ہے اتنی تنخواہ تمہیں میں دے دیا کروں گا تو کتابیں پڑھوانے کے بعد پھر اس نوکری سے فارغ کیا۔تو بچپن سے لے کر شادی تک بچوں کی اس طرح تربیت کی۔اذان کے وقت سب بچوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ، اور جب تک انہیں اٹھا نہیں لیتے تھے نہیں چھوڑتے تھے۔اور پھر وضو کروا کے گھر میں باجماعت نماز ادا ہوتی تھی۔بچوں کی تربیت کے لئے انہیں کبھی بھی نہیں مارا۔اور لڑکے کہتے ہیں کہ ہمیں بھی یہی فلسفہ سمجھاتے تھے کہ بچوں کے لئے دعا کرنی چاہئے۔یہی ان کی