خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 299
خطبات مسرور جلد ہشتم 299 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 کے طور پر کام کرتے رہے۔ان کے والد صاحب نے شدھی تحریک کے دوران ایک سال سے زائد عرصہ وقف کیا تھا۔شہید مرحوم 1928ء میں کھیوہ میں پیدا ہوئے۔فیصل آباد سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔میٹرک کے بعد ائیر فورس جوائن (Join) کر لی۔دو سال کی ٹریننگ کے بعد وارنٹ افسر کے طور پر کام کرتے رہے۔پھر دورانِ سروس 65ء اور 71ء کی جنگوں میں حصہ لیا۔65ء کی جنگ کے دوران ایک موقع پر جب طیارے کا بم لوڈر خراب ہو گیا تو ساتھیوں کو ہمت دلا کر بم کندھوں پر لاد کر خود لوڈ کیا کرتے تھے۔آج یہ نام نہاد ملک کے ہمدرد احمدیوں پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ ملک کے ہمدرد نہیں۔اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کی خاطر بھی قربانیاں دیں اور دینے کے لئے ہر وقت تیار رہے۔حکومت کی طرف سے غیر ممالک کے دورے پر بھی ٹرینگ کے لئے جاتے رہے۔1971ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ریٹائر منٹ کے بعد سول ڈیفنس کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ہیڈ کے طور پر 1988ء تک کام کرتے رہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 85 سال تھی۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں ان کی شہادت ہوئی۔یہ اکثر وہیں جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔جمعرات کو جمعہ کی تیاری کا بڑا اہتمام کیا کرتے تھے۔جمعرات کو ہی کپڑے استری کروا کر لٹکوا دیا کرتے تھے اور بارہ بجے مسجد چلے جاتے تھے۔عموماً ہال کے اندر بائیں طرف کرسیوں پر بیٹھتے تھے۔وقوعہ کے روز ایک نوجوان نے ان کو دوسری اور تیسرے صف کے درمیان خون میں لت پت دیکھا۔انہوں نے اس نوجوان کو آواز دی اور کہا کہ مجھے گولیاں لگی ہیں میرے پیٹ پر کپڑا باندھ دو۔اس کے بعد انہوں نے دیگر زخمیوں کو پانی پلانے کی ہدایت کی۔خود زخمی تھے، اس کے بعد انہوں نے نوجوان کو کہا کہ زخمیوں کو پانی پلاؤ۔ساتھ ساتھ دیگر احباب کو بچاؤ کی ہدایات دیتے رہے کہ یہ اس شعبہ کے ماہر تھے۔ایک گولی ان کی ہتھیلی پر بھی لگی ہوئی تھی۔زخمی حالت میں ان کو جناح ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں رات آٹھ بجے کے قریب ان کی شہادت ہوئی۔شہید کی فیملی میں ایک خاتون نے دو دن قبل خواب میں دیکھا کہ لاہور میں فائرنگ ہو رہی ہے۔اس طرح کی خوا ہیں اکثر احمدیوں کو پاکستان میں بھی اور باہر کے ملکوں میں بھی آئی ہیں جو اس واقعہ کی نشاندہی کرتی تھیں۔کسی سے بغض نہیں رکھتے تھے ، صحت اچھی تھی اور بچوں کے ساتھ بہت پیار کا تعلق تھا۔نماز باجماعت اور قرآنِ کریم کی تلاوت کے شوقین کبڈی اور فٹبال کے بڑے اچھے کھلاڑی رہے۔خلافت سے عشق تھا۔ان کے بارے میں ان کی بیٹی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابا جی ہال میں کرسیوں پر بیٹھے تھے جہاں مربی صاحب خطبہ دے رہے تھے۔خطبہ ابھی شروع ہوا ہی تھا کہ باہر سے گولیوں کی آوازیں آئیں اور پھر یہ آوازیں لمحہ بہ لمحہ قریب ہوتی گئیں۔اس دوران مربی صاحب لوگوں کو درود شریف پڑھنے کی ہدایت دیتے رہے اور کہا کہ خطبہ جاری رہے گا۔کہتی ہیں کہ میرے اباجی کے ساتھ چوہدری وسیم احمد صاحب صدر کینال ویو اور ان کے بزرگ والد بیٹھے تھے۔وہ اپنے عمر رسیدہ والد کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے Basement کی طرف لے گئے۔اور میرے والد صاحب سے بھی کہا کہ بزرگواٹھو! لیکن آپ نہ اٹھے۔بقول وسیم صاحب کے وہ ایسے بیٹھے تھے جیسے ان کا اندر کا فوجی جاگ