خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 295
خطبات مسرور جلد ہشتم 295 خطبه جمعه فرمودہ مور محمد 18 جون 2010 مکرم شیخ محمد یونس صاحب مکرم شیخ محمد یونس صاحب شہید ابن مکرم شیخ جمیل احمد صاحب۔شیخ یونس صاحب مرحوم 1947ء میں امروہہ ( انڈیا ) میں پیدا ہوئے تھے۔1950ء میں قادیان اور پھر 1955ء میں ربوہ میں آگئے۔ان کے والد شیخ جمیل احمد صاحب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے تھے اور درویشان قادیان میں سے تھے۔شہید مرحوم نے میٹرک ربوہ سے کیا۔اس کے بعد صدر انجمن احمد یہ میں کار کن رہے۔2007ء میں ریٹائر منٹ ہو گئی۔پھر یہ اپنے بیٹے کے پاس لاہور چلے گئے اور بطور سیکرٹری اصلاح و ارشاد اور دعوت الی اللہ خدمت سر انجام دے رہے تھے۔63 سال ان کی عمر تھی۔بیت النور ماڈل ٹاؤن میں ان کی شہادت ہوئی۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔اور ان کا معمول یہی تھا کہ جمعہ کے لئے جلدی مسجد میں جاتے تھے اور اس روز بھی جمعہ کے دن کے لئے مسجد بیت النور میں گیارہ بجے پہنچ گئے اور پہلی صف میں بیٹھے تھے۔بیٹا بھی ساتھ تھا۔لیکن وہ دوسرے ہال میں تھا۔پہلی صف میں سب سے پہلے زخمی ہو کر گرتے ہوئے دیکھے گئے۔ان کے سر اور سینے میں گولیاں لگی تھیں۔گرینیڈ پھٹنے کی وجہ سے پسلیاں بھی زخمی ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے شہادت ہوئی۔شیخ صاحب نے ایک خواب میں دیکھا کہ ربوہ میں ایک بہت خوبصورت سڑک ہے یا خوبصورت قالین بچھے ہوئے ہیں، بڑی بڑی کرسیوں پر خلفاء تشریف فرما ہیں اور سب سے اونچی کرسی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور کہتے ہیں میں بھی ( یعنی شیخ صاحب خود) ساتھ گھٹنے جوڑ کر بیٹھا ہوا ہوں۔اہل خانہ نے بتایا کہ خلافت کے شیدائی تھے۔پنجوقتہ نماز کے پابند۔دل کے مریض ہونے کے باوجود شدید گرمیوں اور سردیوں میں نمازیں مسجد میں جا کر ہی ادا کیا کرتے تھے۔کسی شکرانہ کے موقع پر جب الحمدللہ ادا کرتے تو ساتھ ہی ان کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔خدا پر توکل بہت زیادہ تھا۔کہتے تھے کہ بظاہر ناممکن کام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ممکن ہو جاتے ہیں۔تہجد گزار تھے ، ضر ور تمندوں کا خیال رکھتے تھے۔جو بھی معمولی آمدنی تھی اس سے دوسروں کا بھی خیال رکھتے تھے۔سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔مختلف علمی مقالہ جات لکھے اور نمایاں پوزیشن حاصل کیں۔دعوت الی اللہ میں مستعد تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ڈاور ( یہ ربوہ کے قریب ایک گاؤں ہے) کے قریب ایک گاؤں میں ہم دونوں میاں بیوی مختلف اوقات میں قریباً چھ سات سال تک دعوت الی اللہ کرتے رہے اور قرآنِ مجید کی کلاسیں لیتے رہے۔پھر مخالفت شروع ہوئی تو کام روکنا پڑا۔لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان کو پھل بھی عطا فرمائے۔مکرم مسعود احمد بھٹی صاحب مکرم مسعود احمد بھٹی صاحب شہید ابن مکرم احمد دین صاحب بھٹی۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد کھر پر ضلع قصور کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا مکرم جمال دین صاحب نے 12-1911ء میں بیعت کی تھی۔