خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 291
خطبات مسرور جلد هشتم مکرم محمد رشید ہاشمی صاحب 291 خطبه جمعه فرمودہ مور محمد 18 جون 2010 مکرم محمد رشید ہاشمی صاحب شہید ابن مکرم منیر شاہ ہاشمی صاحب۔شہید مکرم شاہ دین ہاشمی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑ پوتے تھے اور شہید کے والد مکرم محمد منیر شاہ ہاشمی صاحب ایبٹ آباد میں جنرل پوسٹ ماسٹر تھے۔1974ء کے فسادات میں آپ کے گھر کو مخالفین نے جلا دیا۔ریڈیو پاکستان پشاور سٹوڈیو میں ملازمت کرتے تھے ، خبریں پڑھتے تھے۔نوائے وقت اخبار میں کالم نویسی بھی کرتے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 78 سال تھی۔مجلس انصار اللہ کے بڑے فعال کارکن تھے۔16 سال تک صد ر حلقہ بھی رہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔اور آپ کی شہادت بھی دارالذکر لاہور میں ہوئی ہے۔تین گولیاں آپ کو لگی تھیں۔بہت ہی پیار کرنے والے تھے ، جماعت کا در درکھنے والے تھے۔خدمت دین کا شوق رہتا تھا۔اور بیوی بچوں کو بھی یہ تلقین کرتے تھے۔صدر شمالی چھاؤنی کو جمعہ کے روز فون کیا کہ میرے پاس جماعت کی ایک امانت ہے۔یہ رقم قومی بچت سے پرافٹ ( Profit) ملا تھاوہ آکر لیں جائیں۔شہادت کے وقت بھی یہ رقم ان کی جیب میں موجود تھی اور گولی لگنے سے اس رقم میں (پیسوں میں بھی) نوٹوں پہ بھی سوراخ ہوئے ہوئے تھے۔ہر کام میں وقت کی پابندی کا بہت خیال تھا، لاہور میں وہاں کے ایک صدر صاحب نماز سینٹر بنانا چاہتے تھے لیکن نقشہ کی اجازت نہیں ملتی تھی۔انہوں نے راتوں رات خود ہی پنسل سے نقشہ بنایا اور اس کی منظوری لے لی۔غیر احمدی بھی ان کی بہت عزت کرتے تھے۔سارے محلے والے تعزیت کے لئے گھر آئے۔بہت بہادر تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔اپنے حلقے کو جماعتی طور پر بڑا اونچار کھا ہوا تھا۔ان کے بارے میں عطاء القادر طاہر صاحب کا ایک خط مجھے ملا۔وہ کہتے ہیں کہ انتہائی مہمان نواز ، ملنسار ، منکسر المزاج تھے۔تلاوت اور نظم پڑھتے تھے۔کمزوری صحت کے باعث چلنے پھرنے میں دشواری آتی تھی لیکن صدارت سے معذوری ظاہر کرنے کے باجود جماعتی کاموں کے لئے ہر وقت تیار تھے۔خلافت سے آپ کو والہانہ عشق تھا اور ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔مکرم مظفر احمد صاحب مکرم مظفر احمد صاحب شہید ابن مکرم مولانا ابراہیم صاحب قادیانی درویش مرحوم۔شہید مرحوم کے خسر حضرت میاں علم دین صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے اور ان کے والد سابق ناظر اصلاح و ارشاد و اشاعت قادیان کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں کے استاد ہونے کا شرف حاصل ہوا۔شہید مرحوم اپنے حلقے کے امام الصلوۃ تھے۔لمبے عرصے تک مجلس دھرم پورہ کے سیکرٹری مال رہے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 73 سال تھی اور ان کی شہادت بھی دارالذکر میں ہوئی۔باقاعدہ نمازیں دارالذکر میں ادا کرتے تھے۔بارہ بجے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے گھر سے نکل گئے۔بیٹا نماز جمعہ کے لیے مسجد بیت النور ماڈل