خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 290

خطبات مسرور جلد ہشتم 290 25 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جون 2010ء بمطابق 18 احسان 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: شہدائے لاہور کا ذکر جاری ہے۔اسی سلسلے میں کچھ اور شہداء کا ذکر کرتا ہوں۔مکرم عبد الرشید ملک صاحب مکرم عبد الرشید ملک صاحب شہید ابن مکرم عبد الحمید ملک صاحب۔شہید مرحوم لالہ موسیٰ کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا حضرت مولوی مہر دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے 313 صحابہ میں شامل تھے ،۔شہید کی عمر شہادت کے وقت 64 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔مجلس انصار اللہ کے فعال رکن تھے۔وصایا و تعلیم القرآن کے سیکرٹری تھے۔مسجد دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔عموماً کڑک ہاؤس میں نماز جمعہ ادا کرتے تھے اور کافی عرصہ بعد دارالذ کر گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے شہادت کا رتبہ دینا تھا۔جمعہ پر جانے سے قبل اہلیہ کو کہا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ کبھی کبھی بڑی مسجد میں جمعہ پڑھنا چاہئے اس لئے میں آج دارالذکر جارہا ہوں۔مین ہال میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔گھر فون کیا کہ میرے پاؤں میں گولی لگی ہے۔اہلیہ کہتی ہیں ان کی بات کے دوران گولیوں کی آوازیں آتی رہیں۔اپنا فون تو تھا نہیں، کسی کے فون سے بات کر رہے تھے۔بہر حال پھر رابطہ ختم ہو گیا۔اہلیہ کا بھی بڑا صبر اور حوصلہ ہے۔بیان کرتی ہیں کہ ان کی شہادت پر اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں۔اللہ تعالیٰ پوری جماعت کا حامی و ناصر ہو اور بہت ترقیات عطا فرمائے۔یہ بھی لجنہ کی کارکن ہیں۔کہتی ہیں کہ بطور باپ بہت شفیق انسان تھے۔تین بیٹیاں ہیں اور کبھی اظہار نہیں کیا کہ بیٹا نہیں ہے۔بیٹیوں پر بہت توجہ دی اور دینی اور دنیاوی تعلیم میں ہمیشہ آگے رکھا اور تینوں بچیوں سے برابری کا سلوک کیا۔ایک نو مبائع بچی جو گھر کا کام کرنے کے لئے آتی تھی، کو بھی تبلیغ کرتے رہے۔اس کو پالا، اس کی بیعت کروائی اور اس کی شادی کے بھی انتظامات کئے تھے۔اور بڑی پیار کرنے والی طبیعت تھی۔دعا گو، سادہ، متقی، ملنسار اور اطاعت گزار شخص تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔