خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 289

خطبات مسرور جلد ہشتم 289 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 شہید مرحوم کو خدمت خلق کا بہت شوق اور جذبہ تھا۔جب بھی کسی کو ضرورت پڑتی ، خون کا عطیہ دے دیا کرتے۔ہمیشہ اپنی تکلیف کے باوجود دوسروں کی مدد کرتے۔رویہ کے بہت اچھے تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں مجھے کبھی کسی دوست کی ضرورت نہیں پڑی۔اہلیہ کہتی ہیں مجھے کبھی کوئی محسوس نہیں ہوا کہ مجھے کوئی دوست یا سہیلی بنانی چاہئے۔گھر کے سارے کاموں میں میرا ہاتھ بٹاتے تھے۔یہاں تک کہ برتن بھی دھلوا دیتے تھے۔بڑی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔نیکی کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے تھے۔استغفار اور درود شریف بہت پڑھتے تھے۔یوں لگتا تھا کہ انگلیوں میں تسبیح کر رہے ہیں۔بے لوث خدمت کرنے والے تھے ، رحم دل تھے۔ہر رشتے کے لحاظ سے وہ بہترین تھے اور بطور انسان بھی۔بچوں سے بھی دوستانہ تھے۔والدہ کے بہت خدمت گزار تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے جو پیچھے رہنے والے لواحقین ہیں ان کو بھی صبر اور ہمت اور حوصلے سے اس صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق دے۔نیکیوں پر قائم رکھے۔آئندہ انشاء اللہ باقی شہداء کا ذکر کروں گا۔کیونکہ یہ بڑا لمباذکر چلے گا۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنی حفاظت میں رکھے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 27 مورخہ 2 جولائی تا 8 جولائی 2010 صفحہ 5 تا11)