خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 288 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 288

خطبات مسرور جلد ہشتم 288 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 والے لوگوں نے بتایا کہ عمیر کا معیار بہت اچھا تھا اور ان کے سامنے کوئی بھی چیز مسئلہ نہیں ہوتی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔اقبال عابد صاحب مربی سلسلہ عمیر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ عمیر احمد ابن ملک عبد الرحیم صاحب دہشتگردانہ حملہ میں اللہ کے پاس چلا گیا۔جب اس کو گولیاں لگی ہوئی تھیں تو اس عاجز کو فون کیا اور کہا مربی صاحب! خدا حافظ ، خدا حافظ، خدا حافظ اور آواز بہت کمزور تھی۔پوچھنے پر صرف اتنا بتایا کہ مسجد نور میں حملہ ہوا ہے اور مجھے گولیاں لگی ہوئی ہیں۔گویا وہ خدا حافظ کہنے کے بعد، کہنا چاہتا تھا کہ ہم تو جارہے ہیں لیکن احمدیت کی حفاظت کا بیڑا اب آپ کے سپرد ہے۔ہمارے خون کی لاج رکھ لینا۔انشاء اللہ تعالیٰ ان قربانی کرنے والوں کی قربانی کی لاج پیچھے رہنے والا ہر احمدی رکھے گا اور آنحضرت صلی للی نم کے نام کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔مکرم سردار افتخار الغنی صاحب سردار افتخار الغنی صاحب شہید ابن مکرم سردار عبد الشکور صاحب۔یہ حضرت فیض علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑ پوتے تھے۔حضرت فیض علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ افریقہ میں حضرت رحمت علی صاحب کے ہاتھ پر احمدی ہوئے۔افریقہ سے واپسی پر امر تسر کی بجائے قادیان میں ہی سیٹ ہو گئے۔شہید نظامِ وصیت میں شامل تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 43 سال تھی۔مسجد دارالذکر گڑھی شاہو میں شہادت پائی۔عموماً مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جمعہ ادا کرتے تھے۔لیکن وقوعہ کے روز نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے اپنے دفتر سے ( اپنے کام سے) مسجد دارالذکر چلے گئے۔شہادت سے قبل سردار عبد الباسط صاحب (جوان کے ماموں ہیں) سے بھی فون پر بات ہوئی۔گھر میں بھی فون کرتے رہے اور يَا حَفِيْظُ يَا حَفِيظٌ کا ورد کرتے رہے۔ماموں کو بھی دعا کے لئے کہتے رہے کہ دعا کریں دہشتگردوں نے ہمیں گھیر اڈالا ہوا ہے۔اہلیہ محترمہ کو پتہ چلا کہ مسجد پر حملہ ہوا ہے تو آپ کو فون کیا اور کہا کہ آپ جمعہ کے لئے نہ جائیں۔لیکن پتہ لگا کہ آپ تو دار الذکر میں موجود ہیں۔گھر میں بھی دعا کے لئے کہتے رہے اور ساڑھے تین بجے ایک دوست جو ملٹری میں ہے ان کو فون کر کے کہا کہ اس طرح کے حالات ہیں، پولیس تو کچھ نہیں کر رہی، تم لوگ مسجد میں لوگوں کی مدد کے لئے آؤ۔شہید ہونے تک دوسروں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔اور انہوں نے موقع پاتے ہی بھاگ کر ایک دہشتگرد کو پکڑا تو دوسرے دہشتگر دنے فائرنگ کر دی۔جس دہشتگرد کو پکڑا تھا اس نے اپنی خود کش جیکٹ بلاسٹ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ پوری طرح نہیں بلاسٹ ہو سکی، دھماکا تھوڑا ہوا لیکن اس دھماکے سے شہید ہو گئے اور دہشتگر دشدید زخمی ہو گیا۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ آسانی سے بچ سکتے تھے اگر یہ اس وقت ایک طرف ہو جاتے اور دہشتگرد پر نہ جھپٹتے۔