خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 285
خطبات مسرور جلد ہشتم مکرم محمد انور صاحب 285 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 محمد انور صاحب شہید ابن مکرم محمد خان صاحب۔ان کا تعلق شیخو پورہ سے تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دور خلافت میں انہوں نے بیعت کی۔ابتدائی عمر میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔دس سال قبل ریٹائرڈ ہوئے تھے اور ساتھ ہی بیت نور ماڈل ٹاؤن میں بطور سکیورٹی گارڈ خدمت کا آغاز کیا اور تاوقت شہادت اس فریضے کو احسن رنگ میں انجام دیا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 45 سال تھی۔مجلس ماڈل ٹاؤن میں ہی انہوں نے (جیسا کہ وہاں سکیورٹی گارڈ تھے) شہادت پائی۔موصی تھے۔اس واقعہ میں ان کا بیٹا عطاء الحئی بھی شدید زخمی ہوا جو ہسپتال میں ہے۔شہید مرحوم بحیثیت سکیورٹی گارڈ بیت نور کے مین گیٹ پر ڈیوٹی کر رہے تھے کہ دہشتگرد کو دور سے آتے دیکھا تو اپنے ساتھ کھڑے ایک خادم کو کہا کہ یہ آدمی مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔تو خادم نے کہا کہ آپ کو تو یوں ہی ہر ایک پر شک ہو رہا ہو تا ہے۔انہوں نے کہا نہیں، میں فوجی ہوں میں اس کی چال ڈھال سے پہچانتا ہوں۔بہر حال اسی وقت دہشتگرد قریب آیا اور اس نے فائرنگ شروع کر دی۔انہوں نے بھی مقابلہ کیا۔ایک خادم نے ان کو کہا کہ گیٹ کے اندر آجائیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں، شیروں کا کام پیچھے ہٹنا نہیں۔اور ساتھ ہی جو ان کے پاس ہتھیار تھا اس سے فائر نگ کی۔دہشتگر دزخمی ہو گیا۔لیکن پھر دوسرے دہشتگر دنے گولیوں کی ایک بوچھاڑ ماری جس سے وہیں موقع پر شہید ہو گئے۔بڑے خدمتِ دین کرنے والے تھے۔کبھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔مسجد کے غسل خانے خود صاف کرتے، جھاڑو دیتے۔اور جب مسجد کی تعمیر ہو رہی تھی تو چو میں چوبیس گھنٹے مسلسل وہیں رہے ہیں۔والدین کی بھی ہر ممکن خدمت کرتے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں تہجد میں پہلے با قاعدگی نہیں تھی۔ایک ماہ سے مسلسل تہجد پڑھ رہے تھے۔اور بچوں سے پہلا سوال یہی ہو تا تھا کہ نماز کی ادائیگی کی ہے یا نہیں اور قرآنِ کریم پڑھا ہے کہ نہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم ملک انصار الحق صاحب ملک انصار الحق صاحب شہید ابن مکرم ملک انوار الحق صاحب۔یہ بھی قادیان کے ساتھ فیض اللہ گاؤں ہے وہاں کے رہنے والے ہیں۔اور پاکستانی آرمی کے ایک ڈپو میں سٹور کیپر تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 63 برس تھی۔مسجد دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔ساڑھے آٹھ بجے یہ نیا سوٹ پہن کر کسی کام سے نکلے اور وہیں سے نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے دارالذکر میں چلے گئے۔انہوں نے کبھی بھی نماز جمعہ نہیں چھوڑی تھی۔سامنے ہی کرسی پر بیٹھے تھے۔گرینیڈ پھٹنے سے زخمی ہو گئے اور اس طرح جسم میں مختلف جگہوں پر پانچ گولیاں لگیں۔زخمی حالت میں میوہسپتال لے گئے جہاں پہنچ کر شہید ہو گئے۔ان کی بہو بتاتی ہیں کہ میرے ماموں بھی تھے اور خسر بھی۔وہ شہادت کے قابل تھے۔دل کے صاف تھے، عاجزی بہت زیادہ تھی۔کبھی کسی سے لڑائی نہیں چاہتے تھے، ہمیشہ