خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 282

282 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم ملازمت کرتے تھے۔خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال رکن تھے۔آڈیٹر حلقہ الطاف پارک کے طور پر خدمت سر انجام دے رہے تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی ہے۔مالی خدمات میں پیش پیش تھے۔اخلاق میں بہت اعلیٰ تھے۔ہمیشہ پیار اور محبت کا سلوک کیا کرتے تھے۔ہر کام بڑی سمجھداری سے کرتے تھے۔ان کے دفتر کے لوگ جو غیر از جماعت تھے ، افسوس کرنے آئے تو انہوں نے بتایا کہ ہر وقت ہنستے رہتے تھے اور ہنساتے رہتے تھے۔والدہ بیمار تھیں تو ساری ساری رات جاگ کر خدمت کی۔والد بیمار ہوئے تو ساری ساری رات جاگ کر انہیں سنبھالا۔انہوں نے گھر کے باہر مین گیٹ کے اوپر کلمہ طیبہ لکھوایا ہوا تھا۔مسجد میں جب واقعہ ہوا تھا تو پونے دو بجے اپنے کزن کو فون کیا اور واقعہ کی تفصیل بتائی۔لوگوں نے بعد میں بتایا کہ امیر صاحب کے آگے کھڑے رہے۔دہشتگر دنے ان سے کہا کہ تیرے پیچھے کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میری بیوی، میرے بچے اور میر ا خدا۔تو دہشتگر دنے کہا کہ چل پھر اپنے خدا کے پاس اور گولیاں برسا دیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ނ ان کی والدہ کہتی ہیں میرا بیٹا بہت پیارا تھا۔میرا بڑا خیال رکھتا تھا۔ہر خوبی کا مالک تھا، ہر کسی کے کام آتا تھا۔اہلیہ نے بتایا کہ میرے خسر بیان کرتے ہیں کہ ان کے بچے فوت ہو جاتے تھے اور ان کو ایک وقت میں اللہ تعالیٰ شکوہ ہو گیا کہ بچے کیوں نہیں دیتا تو الفضل میں ایک خاتون کی تحریر پڑھی کہ جب اللہ مجھے بچے دے گا تو میں تحریک جدید کا چندہ ادا کروں گی۔تو کہتے ہیں یہ پڑھ کر انہوں نے کہا کہ اے اللہ میں آج سے ہی تحریک جدید اور وقف جدید کا چندہ شروع کرتا ہوں تو مجھے بیٹا عطا کر ، جس پر میرے خاوند کی پیدائش ہوئی تھی۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں ان کی زندگی چندوں ہی کی مرہونِ منت ہے۔شہید مرحوم نے کچھ عرصہ پہلے خود اپنا ایک خواب سنایا کہ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنے بچے مجھے دے دو جس پر آپ نے تمام بچوں کو وقف کر دیا جو وقف نو کی تحریک میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔مکرم محمد شاہد صاحب محمد شاہد صاحب شہید ابن مکرم محمد شفیع صاحب۔شہید مرحوم کے دادا مکرم فیروز دین صاحب 1935ء میں احمدی ہوئے۔ضلع کوٹلی آزاد کشمیر کے رہنے والے تھے۔بوقتِ شہادت موصوف کی عمر 28 سال تھی۔اور خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال ممبر تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ کے وقت محراب کے ساتھ امیر صاحب کے قریب ان کی ڈیوٹی تھی۔اپنی ڈیوٹی پر کھڑے تھے۔والد صاحب اور دوستوں کو شہادت سے قبل فون کر کے کہا کہ میں ان دہشتگردوں کو پکڑنے کی کوشش کروں گا۔چہرے پر ناخن لگنے کے نشان تھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی کے ساتھ لڑائی ہوئی ہو۔شہادت سے چند دن قبل دوستوں سے کہا کہ میرے ساتھ اگر کسی کا لین دین ہو تو مکمل کر لیں۔سگریٹ نوشی کی ان کو بری عادت تھی وہ بھی کئی مہینے پہلے چھوڑ دی تھی۔اور آخری بات بھائی کے