خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 277

خطبات مسرور جلد ہشتم 277 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 کی فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہو گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ بہت حلیم طبع انسان تھے۔بچوں کی نماز کی خصوصی نگرانی کرتے اور پچھلے ایک ماہ سے دارالذکر کے کام میں مصروف تھے۔شہادت سے تین چار روز قبل خلاف معمول نہایت سنجیدہ اور خاموش رہے۔قرآنِ شریف کی تلاوت کے بغیر گھر سے نہیں نکلتے تھے۔ان کے بارے میں جب ان کی والدہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز فجر کے بعد خواب میں دیکھا کہ گھر میں شادی کا ماحول ہے۔باہر گلی میں احمدی عورتیں بیٹھی ہیں وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوتی ہیں اور میرے گلے میں ہار ڈالتی ہیں۔ایک عورت نے مجھے گلے لگایا اور ایک گولڈن پیکٹ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو مہندی کرلی ہے۔آپ نے کب کرنی ہے ؟ میں نے کہا کہ گھر جا کر کرتے ہیں۔یہ والدہ کی خواب تھی۔شہید مرحوم کے بھائی نے اپنی خواب کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کامران بہت سارے پھولوں میں کھڑا ہے۔شہید کی والدہ لمبا عرصہ حلقہ دارالذکر کی صدر رہی ہیں اور والد سیکرٹری مال رہے ہیں۔اس حادثے میں شہید کے ماموں مظفر احمد صاحب بھی شہید ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم اعجاز احمد بیگ صاحب اعجاز احمد بیگ صاحب شہید ابن مکرم انور بیگ صاحب۔یہ شہید مرحوم قادیان کے قریب لنگر وال گاؤں کے رہنے والے تھے۔والدہ کی طرف سے محمدی بیگم کے رشتے دار تھے۔تیمور جان صاحب ابن عبد المجید صاحب (نظام جان) کے بہنوئی تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 39 سال تھی۔مجلس خدام الاحمدیہ سے وابستہ تھے اور دارالذکر میں شہید ہوئے۔اہلیہ ان کے بارے میں بیان کرتی ہیں کہ ان کو یورین انفیکشن تھی اور دو سال سے بیمار تھے۔دو مہینے کے بعد پہلی دفعہ جمعہ پڑھنے گئے اور جمعہ سے پہلے خاص طور پر تیاری کی۔دوماہ کے بعد صحت میں بہتری آئی اور ان کو تیار ہوا دیکھ کر کہتی ہیں مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ آج پہلے کی طرح اچھے لگ رہے ہیں۔لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔بہت سادہ اور متوکل انسان تھے۔کبھی پریشان نہ ہوتے تھے۔صابر تھے ، کبھی کسی کے منفی طرز عمل کے جواب میں رد عمل کے طور پر منفی طرز عمل نہیں دکھایا۔آپ پرائیویٹ ڈرائیونگ کرتے تھے۔ان دنوں جنرل ناصر صاحب شہید کے ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند کرے۔مکرم مرزا اکرم بیگ صاحب مرزا اکرم بیگ صاحب شہید این مکرم مرزا منور بیگ صاحب۔یہ شہید مرحوم مرزا عمر بیگ صاحب کے پوتے تھے اور عمر بیگ صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔پارٹیشن کے وقت قادیان سے ہجرت کر کے آئے تھے۔اور ایوب اعظم بیگ صاحب شہید آف واہ کینٹ ان کے حقیقی ماموں تھے۔ان کے ماموں کو واہ کینٹ میں میرا خیال ہے 1997-98ء میں شہید کیا گیا۔