خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 276

خطبات مسرور جلد ہشتم 276 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جون 2010 کیپٹن ریٹائرڈ مر زانعیم الدین صاحب کیپٹن ریٹائرڈ مرزا نعیم الدین صاحب شہید ابن مکرم مرزا سراج دین صاحب۔یہ شہید فتح پور ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔خاندان میں سب سے پہلے ان کے دادا نے بیعت کی تھی۔مرزا محمد عبد اللہ صاحب درویش قادیان آپ کے تایا تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 56 سال تھی اور دارالذکر میں شہید ہوئے۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے ان کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کے روز بیٹی کے گھر کھانا کھاتے تھے۔زخمی حالت میں کوئی دوبجے کے قریب بیٹی کو گھر فون کیا کہ والدہ کا دھیان رکھنا۔ان کی اہلیہ نے کہا پھر میں نے فون پکڑا، تو کہا کہ ٹھیک ہو ؟ میں نے کہا کہ ہاں جی ٹھیک ہوں۔کہا کہ اللہ حافظ۔بیٹے عامر کا پتہ کرواتے رہے۔دو افراد کو فوجی نقطہ نظر سے جان بچانے کے طریقے بتائے جس سے بفضلہ تعالیٰ وہ دونوں محفوظ رہے۔خود یہ محراب کے قریب دیوار کے ساتھ بیٹھی ہوئی حالت میں شہید ہو گئے۔ان کے پیٹ میں گولی لگی تھی۔اس سانحے میں ان کا بیٹا عامر نعیم بھی زخمی ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے شفائے کاملہ عطا فرمائے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ہمارے دونوں خاندانوں میں ہماری ازدواجی زندگی ایک مثال تھی۔پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں اور ہر بیٹی کی پیدائش پر یہ کہتے تھے کہ رحمت آئی اور ہر بیٹی کی پیدائش کے بعد ان کی ترقی ہوئی۔یہ ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو بیٹیاں پیدا ہونے پر بعض دفعہ بیویوں کو کوستے ہیں اور یہ شکایات مجھے اکثر آتی رہتی ہیں۔سپاہی سے یہ کیپٹن تک پہنچے اور دیانتداری کی وجہ سے لوگ ان کا بڑا احترام کرتے تھے۔بڑے بہادر انسان تھے۔1971ء کی جنگ اور کار گل کی لڑائی میں حصہ لیا۔شہادت کی بڑی تمنا تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہ تمنا بھی ان کی اس رنگ میں پوری فرمائی۔عبادت کرتے ہوئے ان کو شہادت کار تنبہ دیا۔مکرم کامران ارشد صاحب کامران ارشد صاحب ابن مکرم محمد ارشد قمر صاحب۔ان کے دادا مکرم حافظ محمد عبد اللہ صاحب اپنے خاندان میں سب سے پہلے احمدی تھے۔انہوں نے 1918ء میں بیعت کی۔پارٹیشن کے وقت ضلع جالندھر سے ہجرت کر کے آئے تھے۔بوقت شہادت شہید کی عمر 38 سال تھی اور دارالذکر میں انہوں نے شہادت پائی۔شہید مرحوم کی تعلیم بی اے تھی۔کمپوزنگ کا کام کرتے تھے اور خدام الاحمدیہ کے بڑے فعال رکن تھے۔بطور سیکرٹری تعلیم جماعت کی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔اس کے علاوہ mta لاہور میں 1994ء سے رضا کارانہ خدمت سر انجام دے رہے تھے۔اس سے پہلے دارالذکر میں شعبہ کتب میں بھی خدمت سر انجام دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ شروع ہونے کے وقت بہادری کے ساتھ جان کی پر واہ کئے بغیر MTA کے لئے ریکارڈنگ کرنے کے لئے نکلے مگر اس دوران دہشتگر دوں