خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 267

خطبات مسرور جلد ہشتم 267 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 شہداء کا ذکر بھی کرنا چاہتا تھا لیکن یہ تو ایک لمبی بات ہو جائے گی۔آئندہ انشاء اللہ مختصر ذکر کروں گا کیونکہ تقریباً 85 شہداء ہیں مختصر تعارف بھی کروایا جائے تو کافی وقت لگتا ہے۔جمعہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ ان کی نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔اسی دوران گزشتہ دنوں اس واقعہ کے دو تین دن کے بعد نارووال میں ہمارے ایک احمدی کو شہید کر دیا گیا۔ان کا نام نعمت اللہ صاحب تھا اور اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے۔صحن میں آکر چھریوں کا وار کر کے ان کو شہید کیا۔ان کا بڑا بیٹا بچانے کے لئے آیا تو اس کو بھی زخمی کر دیا۔وہ ہسپتال میں ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو بھی شفا عطا فرمائے اور مرحوم کے درجات بلند کرے۔ان کی اہلیہ اور تین بیٹیاں ہیں اور تین بیٹے ہیں۔ان کے دوسرے عزیزوں میں سے بھی لاہور میں دو شہید ہوئے ہیں۔اور قاتل کا تعلق تحفظ ختم نبوت سے ہے۔ایک طرف تحفظ ختم نبوت والے اعلان کر رہے ہیں کہ بہت برا ہوا۔دوسری طرف اپنے لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ جاؤ اور احمدیوں کو شہید کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ۔وہ پکڑا گیا ہے اور اس نے اقرار کیا ہے کہ سانحہ لاہور کے پس منظر میں مجھے بھی کیونکہ ہمارے علماء نے یہی کہا ہے اس لئے میں شہید کرنے کے اس نیک کام کے لئے ثواب حاصل کرنے کے لئے آیا تھا۔اور پھر پکڑے جانے کے بعد یہ بھی کہہ دیا کہ یہاں ہم کسی بھی احمدی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔تو یہ تو ان کے حال ہیں۔پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا میں بدنام کیا جاتا ہے۔دنیا میں تو خود تم اپنے آپ کو بد نام کر رہے ہو۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔بہت دعائیں کریں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ مریضوں کے لئے بھی بہت دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ انہیں شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 26 مورخہ 25 جون تاکیم جولائی 2010 صفحہ 5 تا 9)