خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 264
خطبات مسرور جلد ہشتم 264 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 ایک احمدی نے لکھا کہ میں ربوہ سے گیا تھا۔ایک نوجوان خادم کے ساتھ مل کر لاشیں اٹھاتا رہا تو سب سے آخر میں اس نے میرے ساتھ مل کر ایک لاش اٹھائی اور ایمبولینس تک پہنچادی، اور اس کے بعد کہنے لگا کہ یہ میرے والد صاحب ہیں۔اور پھر یہ نہیں کہ اس ایمبولینس کے ساتھ چلا گیا بلکہ واپس مسجد میں چلا گیا اور اپنی ڈیوٹی جو اس کے سپر د تھی اس کام میں مستعد ہو گیا۔یہ ہیں مسیح محمدی کے وہ عظیم لوگ جو اپنے جذبات کو صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں۔اس طرح کے بیسیوں واقعات ہیں۔بعد میں انشاء اللہ تعالیٰ یہ جمع کر کے لکھے بھی جائیں گے۔ایک بات جو سب نے بتائی ہے جو کا من (Common) ہے، عینی شاہد جو بتاتے ہیں کہ دہشت گر دجب یہ سب کارروائی کر رہے تھے تو کوئی پینک (Panic) نہیں تھا۔جیسا کہ الدروبی صاحب نے بھی لکھا ہے۔امیر صاحب اور مربی صاحب اور عہدیداران کی ہدایات پر جب تک یہ لوگ عہدیداران زندہ رہے سکون سے عمل کرتے رہے اور اس کے بعد بھی کوئی بھگدڑ نہیں مچی بلکہ بڑے آر گنائزڈ طریقے سے دیواروں کے ساتھ لگ گئے تا کہ گولیوں سے بچ سکیں اور بیٹھ کر دعائیں کرتے رہے۔اور ایک بزرگ اس حالت میں مسلسل سجدہ میں رہے ہیں کوئی پرواہ نہیں کی کہ دائیں بائیں گولیاں آرہی ہیں۔یہ ہیں ایمان والوں اور حقیقی ایمان والوں کے نظارے۔کئی خطوط مجھے اس مضمون کے بھی آرہے ہیں جو سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب :24) کہ مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔پس ان میں سے وہ بھی ہیں جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہا ہے۔اور انہوں نے ہرگز اپنے طرزِ عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔اور وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ لکھ کر یہ لوگ پھر اپنے عہد وفا اور قربانی کا یقین دلا رہے ہیں۔پس دشمن تو سمجھتا تھا کہ اس عمل سے احمدیوں کو کمزور کر دے گا، جماعت کی طاقت کو توڑ دے گا۔شہروں کے رہنے والے شاید اتنا ایمان نہیں رکھتے۔لیکن انہیں کیا پتہ ہے کہ یہ شہروں کے رہنے والے وہ لوگ ہیں جن میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایمان کی حرارت بھر دی ہے۔جو دین کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لئے ہر دم تیار ہیں۔بے شک دنیا کے دھندوں میں بھی لگے ہوئے ہیں لیکن صرف دنیا کے دھندے مقصود نہیں ہیں۔جب بھی دین کے لئے بلایا جاتا ہے تو لبیک کہتے ہوئے آتے ہیں۔بلکہ جیسا کہ میں نے کہا یہ درندگی کے بجائے انسانیت کے علمبر دار ہیں۔آخر یہ احمدی بھی تو اسی قوم میں سے آئے ہیں۔وہی قبیلے ہیں ، وہی برادر یاں ہیں جہاں سے وہ لوگ آرہے ہیں جو مذ ہب کے نام پر درندگی اور سفاکی دکھاتے ہیں۔لیکن مسیح موعود کے ماننے کے بعد یہی لوگ ہیں جو مذہب کی خاطر قربانیاں تو دیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق۔