خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 259

خطبات مسرور جلد ہشتم 259 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جون 2010 وارث بننے کی خبریں سنائی ہیں۔اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو بھی جنت کی بشارت ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اس دنیا میں رہنے والوں کے لئے بھی جنت کی بشارت ہے۔ایسے لوگوں کی خواہشات اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول بن جاتی ہیں۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی انہی خوبیوں کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ ابتلاؤں میں استقامت دکھاتے ہیں فرشتے ان کے لئے تسلی کا سامان کرتے ہیں۔جب مومنین ہر طرف سے ابتلاؤں میں ڈالے جاتے ہیں جانوں کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔اموال کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے یا پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔عزتوں کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے یا پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہر طرف سے بعض دفعہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مدد کے دروازے ہی بند ہو گئے ہیں اس وقت جب مومنین بَشِّرِ الصُّبِرِینَ کو سمجھتے ہوئے استقامت دکھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بن جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ایک دم ایسی فتح و ظفر اور نصرت کی خبریں ملتی ہیں، اس کے دروازے کھلتے ہیں کہ جن کا خیال بھی ایک مومن کو نہیں آسکتا۔ایسے ایسے عجائب اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے کہ جن کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔پس استقامت شرط ہے اور مبارک ہیں لاہور کے احمدی جنہوں نے یہ استقامت دکھائی، جانے والوں نے بھی اور پیچھے رہنے والوں نے بھی۔پس یقیناً اللہ تعالیٰ جو سچے وعدوں والا ہے اپنے وعدے پورے کرے گا۔اور دلوں کی تسکین کے لئے جو وعدے ہیں، جو ہمیں نظر آرہے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہونے کا ہی نشان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ : ”وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور باطل خداؤں سے الگ ہو گئے پھر استقامت اختیار کی یعنی طرح طرح کی آزمائشوں اور بلا کے وقت ثابت قدم رہے۔ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم مت ڈرو اور مت غمگین ( ہو ) اور خوش ہو اور خوشی میں بھر جاؤ کہ تم اس خوشی کے وارث ہو گئے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ہم اس دنیوی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے دوست ہیں۔اس جگہ ان کلمات سے یہ اشارہ فرمایا کہ اس استقامت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔یہ سچ بات ہے کہ استقامت فوق الکرامت ہے۔کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں اور خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو یہانتک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کر دے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے۔اس وقت نامردی نہ دکھلاویں اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ ہٹیں اور وفا داری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں۔ذلت پر خوش ہو جائیں، موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے، نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجو د سراسر بے کس اور کمزور ہونے کے اور کسی تسلی کے نہ پانے کے سیدھے