خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد ہشتم 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 النَّارِ (البقرة:202) کہ انہی میں سے وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی حسنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حسنہ عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔متا کہ ہے۔پس یہ وہ حقیقی مومن ہیں جو اللہ تعالیٰ سے دنیا کی حسنہ بھی مانگتے ہیں اور آخرت کی حسنہ بھی مانگتے ہیں۔نئے سال کے شروع ہونے کی دعا میں صرف دنیاوی ترقیات ہی نہیں مانگتے بلکہ روحانی ترقی کے لئے بھی دعا کرتے ہیں۔صرف اپنی بہتری کے لئے ہی نہیں سوچتے بلکہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے بھی سوچتے اور دعا کرتے ہیں۔پس تقویٰ پر چلنے والے اور حقیقی مومن جہاں دنیا کی حسنات کی تلاش میں ہوتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ سے آخرت کی حسنہ کے حصول کی بھی دعا کرتے ہیں یہ ہر دو حسنات جو ہیں انہیں آگ کے عذاب سے بچائیں۔یہ ایک ایسی جامع دعا ہے جو عارضی حسنات کے حصول کے لئے بھی سکھائی گئی ہے اور مستقل حسنات کے حصول کے لئے بھی سکھائی گئی۔روایات میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی العلوم یہ دعا اکثر مانگا کرتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب الذكر والدعاء و التوبة باب فضل الدعاء بالهم اتنا في الدنيا حسنة۔۔۔حديث 6735–6736) یہ دعا ایسی ہے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کرتے ہوئے جہاں ایک مومن کو اس دنیا میں آگ کے عذاب سے بچاتی ہے وہاں اس عمل کی وجہ سے جو ایک مومن ان حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرتا ہے اگلے جہان میں بھی اُسے آگ کے عذاب سے محفوظ رکھتی ہے۔اس دنیا میں بھی انسان عَذابَ النَّار سے گزرتا ہے۔کئی قسم کے دکھ ہیں۔حسرتیں ہیں۔مختلف قسم کی مصیبتیں ہیں۔جنگیں ہیں۔یہ سب عَذَابَ النَّار ہی ہیں۔آگ کے عذاب ہی ہیں۔عذاب النار آج کل دیکھیں پاکستان میں، افغانستان میں اور بعض دوسرے ممالک میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔اب گزشتہ دنوں کراچی میں ہی جو آگ لگی ہے وہ ان متاثرین کے لئے بلکہ پورے ملک کے لئے عَذَابَ النَّار ہی ہے اس آگ نے پوری ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا۔صرف ایک شہر کی معیشت تباہ نہیں ہوئی۔کھربوں کا نقصان ہوا ہے۔پس آگ کے جو عذاب ہیں وہ اس دنیا میں بھی انسان کے ساتھ ہیں اور اس کے لئے انسان کو پناہ مانگنی چاہئے اور اگر انسان تقویٰ سے عاری ہے، نیک اعمال نہیں۔اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی نہیں۔تو ایسے لوگوں کے لئے پھر اللہ تعالیٰ کے بڑے انذار ہیں۔پس انسان دعا کرتا ہے تو حسنات مانگنے کے ساتھ فوراً تقویٰ کی طرف بھی توجہ ہونی چاہئے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ ہونی چاہئے۔اپنے آپ کو ہر ایسے کام میں ملوث ہونے سے بچانے کی طرف بھی توجہ ہونی چاہئے جس کے نتائج بڑے ہوں اور اس طرف بھی توجہ ہونی چاہئے جب کہ میں اپنے کسی مخفی گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی حسنہ سے محروم نہ رہ جاؤں۔۔