خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 246

خطبات مسرور جلد ہشتم 246 22 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 مئی 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 2010ء بمطابق 28 ہجرت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِيْنِ - فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سجِدِينَ - فَسَجَدَ الْمَلَبِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ (ص: 75- 72) جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا یقیناً میں مٹی سے بشر پیدا کرنے والا ہوں۔پس جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کر لوں اور اس میں اپنی روح میں سے کچھ پھونک دوں تو اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑو۔اس پر سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں۔اس نے استکبار کیا اور وہ تھا ہی کا فروں میں سے۔ابتدائے عالم سے ہی شیطان اور انسان کی جنگ شروع ہے اور مذہبی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر پڑنے کے ساتھ ہی شیطان نے جنگ شروع کر دی تھی۔شدت سے انسانوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔اور پھر جو بھی انبیاء کا زمانہ آیا ہر زمانے میں یہ تاریخ دہرائی جاتی رہی، اور دوہرائی جارہی ہے۔انبیاء جب آتے ہیں تو آکر انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے راستے دکھاتے ہیں اور شیطان ان میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پہلے بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔مختلف طریقوں، حیلوں بہانوں، لالچوں اور خوف کے ذریعے سے ڈراتا ہے۔گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔قرآنِ کریم میں بے شمار جگہ اس بات کا ذکر آیا ہے۔انسان اور آدم کی تخلیق کے ساتھ ہی شیطان نے اپنے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیئے۔قرآن کریم میں سورۃ فاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک شیطان کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کے حملوں سے ہوشیار کیا ہے اور بیچنے کا حکم دیا ہے اور دعا بھی سکھائی ہے کہ اے اللہ ! ہمیں شیطان لعین کے حملوں سے بچا اور ہمیں ہر دم اپنی پناہ میں رکھ۔انبیاء کی بعثت اور مخالفت یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اپنا محبوب اور قریبی ہونے کا اعلان