خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 244

خطبات مسرور جلد ہشتم 244 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 طرف کچھی چلی جارہی ہے۔اور یقیناً یہ صورت حال عیسائیت کے لئے کھلا چیلنج ہے۔تاہم یہ فیصلہ ابھی باقی ہے کہ آئندہ افریقہ میں ہلال کا غلبہ ہو گا یا صلیب کا “۔( تعارف کتاب سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 12) اور انشاء اللہ تعالیٰ ہلال کا ہی غلبہ ہونا ہے میرے لئے یہ بس ہے کہ وہ راضی ہو آپ (حضرت مسیح موعود) اپنی حالت کے بارے میں فرماتے ہیں، کیا درد ہے کہ: ”میری روزانہ زندگی کا آرام اسی میں ہے کہ میں اسی کام میں لگار ہوں، بلکہ میں اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا کہ میں اُس (یعنی خدا) کا اور اس کے رسول (مل کر) کا اور اس کی کلام کا جلال ظاہر کروں۔مجھے کسی کی تکفیر کا اندیشہ نہیں اور نہ کچھ پر وا۔میرے لئے یہ بس ہے کہ وہ راضی ہو جس نے مجھے بھیجا ہے۔ہاں میں اس میں لذت دیکھتا ہوں کہ جو کچھ اس نے مجھ پر ظاہر کیا، وہ میں سب لوگوں پر ظاہر کروں۔اور یہ میرا فرض بھی ہے کہ جو کچھ مجھے دیا گیا وہ دوسروں کو بھی دوں۔اور دعوت مولیٰ میں ان سب کو شریک کرلوں جو ازل سے بلائے گئے ہیں۔میں اس مطلب کے پورا کرنے کے لئے قریباً سب کچھ کرنے کے لئے مستعد ہوں اور جانفشانی کے لئے راہ پر کھڑا ہوں۔اور امید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔اور میرے تمام ارادے اور امیدیں پوری (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 519-520) کر دے گا“۔پس کیا ایسے شخص کے بارے میں یہ بیہودہ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ نعوذ باللہ وہ اپنے آپ کو خاتم النبیین سمجھتا ہے۔اور اس کا مقام آنحضرت صلی علیہ کم سے اونچا ہے ؟ ہم ہی ہیں جو حضرت مسیح موعود کی تعلیم کو سمجھتے ہوئے لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کے حقیقی معنی کو سمجھنے والے ہیں۔ہم ہیں جو آنحضرت صلی کم کے مقام ختم نبوت کو سمجھنے والے ہیں۔وقتا فوقتا احمدیوں پر الزام تراشی کرتے ہوئے ہمارے خلاف جو نام نہاد علماء مسلمانوں کے جذبات کو بھڑ کا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، یا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان حقائق کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو چاہئے کہ دیکھیں اور پر کھیں۔جہاں تک احمدیوں کا سوال ہے، احمدی اپنی جانوں کو تو قربان کر سکتے ہیں لیکن کبھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے حقیقی معنی سمجھ کر پھر اس سے منہ نہیں موڑ سکتے۔یہ جو کلمے مٹائے جاتے ہیں، یہ جو کلمے کی حفاظت کے نام پر احمدیوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے ، جو کلمے کے نام پر احمدیوں کو شہید کیا جاتا ہے یہی کلمہ مرنے کے بعد ہمارے حق میں خدا تعالیٰ کے حضور گواہی دے گا کہ یہی حقیقی کلمہ گو ہیں۔اور یہی کلمہ احمدیوں پر ظلم کرنے والوں اور ان کو شہید کرنے والوں کے بارے میں قتل عمد کی گواہی دے گا۔پس ہم خوش ہیں کہ جنت کی خوشخبری دے کر اللہ تعالیٰ ہمیں دائمی زندگی سے نواز رہا ہے۔پس جہاں شہداء دائگی زندگی کی خوشخبری پارہے ہیں وہاں ہم