خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد ہشتم 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم جنوری 2010 اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے“۔آپ نے فرمایا کہ تقویٰ سے جاہلیت ہرگز جمع نہیں ہو سکتی ( یعنی تقویٰ اور جاہلیت کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے ) ”ہاں فہم اور اور اک حسب مراتب تقوی کم و بیش ہو سکتا ہے“۔(آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 177-178) یہ نکتہ ہمیشہ یادرکھنا چاہیے تقویٰ سمجھ ہے۔اس کا علم ہے۔اس کا فہم و ادراک ہے۔جتنا اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے وہ اس کے مطابق، اس مرتبے کے مطابق اوپر نیچے ہو سکتا ہے۔لیکن جہالت اور تقویٰ جمع نہیں ہو سکتے۔تقویٰ کے مختلف معیار ہیں۔اس لئے انسان کو کہا گیا ہے کہ تقویٰ کے معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے چلے جاؤ۔پس چاہے کوئی کم پڑھا لکھا احمدی ہے۔یا پڑھا لکھا ہے۔دینی علم رکھنے والا ہے یا کم دینی علم رکھنے والا ہے اگر تقویٰ پر قائم ہے تو جاہلانہ باتوں سے وہ ہمیشہ بچتا رہے گا۔پس یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جہالت اور تقویٰ کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔تقویٰ کے معیار بیشک اوپر نیچے ہوسکتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔حقیقی مومن وہی ہے جو تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال بجالانے کی کوشش کرے۔اس دعا کے ساتھ اپنے ہر دن اور ہر سال میں داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ اُسے ہمیشہ تقویٰ پہ قائم رکھے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازتا رہے۔انسان کے اپنے اعمال ہی ہیں جو اسے حسنات سے نوازتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب بناتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بناتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ واضح فرمایا ہے بلکہ کئی جگہ فرمایا ہے کہ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (سورة الفاطر :19) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنی رحمت میں سے ان لوگوں کو دوہرا حصہ دے گا جو تقویٰ پر قائم ہوتے ہیں اور رسول پر ایمان لاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے رسول اللہ صلی اللی نام پر درود بھیجتے ہیں اور آپ کے اسوہ پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو دوہرا حصہ ملتا ہے وہ وہ حسنات ہیں جو دنیوی جنتوں کا بھی وارث بناتی ہیں اور اُخروی جنتوں کا وارث بھی بناتی ہیں۔پھر اس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں دعا بھی سکھادی کہ جنتوں کا وارث بننے کے لئے تمہیں دعا بھی کرنی چاہئے۔کس کس طرح انسان خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔اس کا حق کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا۔پس ایک ہی طریق ہے کہ انسان مسلسل خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے آگے جھکا رہے۔ان حسنات کے لئے، اللہ تعالیٰ نے رحمت سے دوہرا حصہ لینے کے لئے حقیقی مومن کو جو دعا سکھائی ہے اور نشانی بتائی ہے وہ یہ ہے جس کا سورۃ بقرہ میں ذکر ہے کہ وَمِنْهُم مَّنْ يَقُولُ رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ