خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 238

خطبات مسرور جلد ہشتم 238 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 کلمہ دل سے پڑھ رہا ہے یا اوپر سے پڑھ رہا ہے ؟ (سن ابی داؤد کتاب الجہاد باب علی ما یقاتل المشرکون حدیث:2643) آپ کے صحابہ کو تو پتہ نہ چلا کہ کلمہ دل سے پڑھا جا رہا ہے یا اوپر سے پڑھا جارہا ہے۔آنحضرت صلیلی کیم کو جن کو براہ راست اللہ تعالٰی کی رہنمائی تھی ان کو تو پتہ نہ چلا کہ کلمہ کس جگہ سے پڑھا جارہا ہے۔یہ دلی کیفیت ہے یا اوپر سے پڑھا جا رہا ہے ؟ ان مولویوں کو دل کی کیفیت کا پتہ چل جاتا ہے کہ کلمہ یہ ظاہر اپڑھتے ہیں۔کراچی میں شہادت گزشتہ دنوں دو دن پہلے پھر کراچی میں ایک شہادت ہوئی ہے۔مکرم حفیظ احمد شاکر صاحب گلشن اقبال کراچی کے رہنے والے تھے۔ان کا میڈیکل سٹور تھا، رات کو ساڑھے بارہ بجے دکان بند کر کے اپنے کاروبار سے واپس آرہے تھے تو راستے میں ان کو روک کر کنپٹی پر پستول رکھ کر ان کو شہید کر دیا گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کی عمر 48 سال تھی خادم کی حیثیت سے بھی اور بعد میں انصار اللہ میں جانے کے بعد ناصر کی حیثیت سے بھی یہ بڑے ایکٹو (Active) ممبر تھے۔خاص طور پر قرآنِ کریم کی تلاوت کا ان کو بڑا شوق تھا نظم اور تلاوت کے مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشن لیتے رہے۔نہایت شریف النفس اور فدائی احمدی تھے۔ان کی اہلیہ کے علاوہ ان کی والدہ بھی حیات ہیں۔دو بیٹیاں قرۃ العین عمر 19 سال اور طوبی عمر 14 سال اور ایک بیٹا ہے فائق احمد عمر 17 سال۔اللہ تعالیٰ ان کی والدہ کو اور بچوں کو صبر عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرماتا رہے۔تو یہ سب ظلم جیسا کہ میں نے کہا یہ شہادتیں، یہ تکلیفیں، یہ قتل، یہ کلے مٹانے ، ان مولویوں کے بھڑ کانے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔مسلمان اور مؤمن کی تعریف جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کی ہے وہ تو میں نے بتادی کہ کیا ہے ؟ اب ان مقتل کرنے والوں کے بارے میں قرآنِ کریم کیا کہتا ہے؟ فرماتا ہے وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَلِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ( النساء: 94) اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے۔وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والا ہے۔اور اللہ اس پر غضب ناک ہوا اور اس پر لعنت کی۔اور اس نے اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔معاملہ اللہ کے سپر د ہے اور پھر احمدی تو ایک طرف رہے، جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایک دوسرے کی مخالفت میں جو خود تعریف کرتے ہیں، مسلمان کی جو نام نہاد تعریف ہے، اس تعریف کے مطابق جس کو مسلمان کہتے ہیں ان کو بھی قتل کرتے چلے جارہے ہیں۔روزانہ پاکستان میں قتل ہو رہے ہیں۔ذرا علماء اس بات پر بھی تو غور کریں۔کسی جرم کے لئے ابھارنے والا اور پلاننگ (Planning) کرنے والا اسی طرح مجرم ہوتا ہے جس طرح وہ عمل کرنے والا مجرم ہے۔بہر حال ہماری طرف سے تو یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔اور ہم نے ہمیشہ صبر کیا ہے اور صبر کرتے چلے جائیں گے ، انشاء اللہ تعالی۔