خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 235 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 235

خطبات مسرور جلد ہشتم 235 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مئی 2010 ہے تمہاری قابل رحم حالت ہمیں بے چین کرتی ہے کہ کہیں اس حد تک خدا تعالیٰ کو ناراض نہ کر لو کہ واپسی کا کوئی راستہ نہ رہے۔اس سے پہلے ہی خدا تعالیٰ کے فرستادہ کی مخالفت اور استہزاء چھوڑ دو۔امام وقت کے ماننے والوں کو خدا کے نام پر اذیتوں اور تکلیفوں کا نشانہ نہ بناؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔”اے سونے والو! بیدار ہو جاؤ اے غافلو! اٹھ بیٹھو کہ ایک انقلاب عظیم کا وقت آگیا۔یہ رونے کا وقت ہے، نہ سونے کا۔اور تضرع کا وقت ہے ، نہ ٹھٹھے اور ہنسی اور تکفیر بازی کا۔دعا کرو کہ خداوند کریم تمہیں آنکھیں بخشے تا تم موجودہ ظلمت کو بھی بتمام و کمال دیکھ لو۔اور نیز اس نور کو بھی جو رحمت الہیہ نے اس ظلمت کے مٹانے کے لئے تیار کیا ہے۔پچھلی راتوں کو اٹھو اور خدا تعالیٰ سے رورو کر ہدایت چاہو۔اور ناحق حقانی سلسلہ کے مٹانے کے لئے بد دعائیں مت کرو اور نہ منصوبے سوچو۔خدا تعالیٰ تمہاری غفلت اور بھول کے ارادوں کی پیروی نہیں کرتا۔وہ تمہارے دماغوں اور دلوں کی بے وقوفیاں تم پر ظاہر کرے گا اور اپنے بندہ کا مددگار ہو گا۔اور اس درخت کو کبھی نہیں کاٹے گا جس کو اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے“۔( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 53-54) پاکستان میں کلمہ طیبہ مٹانے کی ناپاک جسارت خدا کرے کہ ہمارے مخالفین کو عقل آجائے اور وہ امام وقت کی مخالفت ترک کریں اور اس درد مندانہ پیغام کو سمجھیں۔پاکستان میں بدنام زمانہ اور ظالمانہ قانون نے احمدیوں پر جو پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔اس میں ایک یہ بھی ہے کہ احمدی لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا کلمہ نہ پڑھ سکیں۔نہ کسی جگہ لکھ کر اس کا اظہار کر سکتے ہیں۔وقتا فوقتا انتظامیہ جو ہے وہ احمدیوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنانے کے لئے اس قانون کو استعمال کرتی رہتی ہے۔اور مولویوں کو خوش کرنے کے لئے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔مختی گزشتہ دنوں سرگودھا کے ایک گاؤں چک منگلا میں رات کے وقت پولیس آئی اور احمد یہ مسجد پر سامنے پر لکھا ہوا جو کلمہ آویزاں تھا، اس کو ایک بچہ وہاں کھڑا تھا، اس کو کہا کہ اتار دو اور اتار کر وہ تختی لے گئی۔بہر حال جماعت نے راتوں رات ہی دوبارہ کلمہ لکھ دیا۔بچہ چھوٹا تھا، احمدی تھا۔بچے کو کس طرح ڈرا دھمکا کر انہوں نے یہ کام کروایا؟ اس کی تفصیل تو نہیں آئی، کس طرح اس نے سختی اتاری۔مٹایا تو بہر حال نہیں، سختی اتار کر ان کو دی۔لیکن یہ بھی نہیں ہونا چاہئے تھا۔میں ہر احمدی بچے کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ ہو تو بچے پولیس کو یہ کہیں کہ تم نے اتارنا ہے تو اتار لو میں تو ایسی حرکت کبھی نہیں کر سکتا۔چاہے جتنا بھی ظلم تم کر نا چاہتے ہو ہم پر کر لو۔ہر احمدی یادرکھے کہ یہ کلمہ ہے جس کی ہر بڑے، بچے، مرد، عورت نے حفاظت کرنی ہے۔اگر قانون