خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 223
خطبات مسرور جلد ہشتم 20 20 223 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 مئی 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 مئی 2010ء بمطابق 14 ہجرت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانيه) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: سبح اسم ربكَ الْأَعْلَى الَّذِى خَلَقَ فَسَوَى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدى (الا على : 2-4) یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں۔سورۃ اعلیٰ کی پہلی تین آیات ہیں۔یعنی بسم اللہ کے علاوہ۔اس سورۃ کو جیسا کہ ہمارے ہاں عموما طریق رائج ہے ، جمعہ اور عیدین میں پہلی رکعت میں پڑھا جاتا ہے۔کیونکہ حدیث میں روایت ملتی ہے کہ آنحضرت صلی علی یکم جمعہ اور عیدین پر پہلی رکعت میں سورۃ اعلیٰ پڑھا کرتے تھے۔اسی طرح دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ پڑھا کرتے تھے۔(مسلم کتاب الجمعة باب ما يقرآ فى صلوة الجمعة حديث نمبر 1912) پس یہ اس سنت کی پیروی ہے جو آنحضرت صلی علیکم کی سنت ہے جس کی وجہ سے یہ سورتیں پڑھی جاتی ہیں۔اسی طرح یہ بھی روایت ہے کہ آنحضرت صلی علیکم وتروں کی پہلی رکعت میں سورۃ اعلیٰ پڑھا کرتے تھے۔اور دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں بعض روایات میں آتا ہے سورۃ الاخلاص اور بعض میں یہ ہے کہ آخری تین سورتیں۔آخری دو قل اور سورۃ اخلاص۔(ترمذی ابواب الوتر باب ما جاء فى ما يقر آبه فی الوتر حدیث نمبر 463،462) تفسیر سورۃ الاعلیٰ بہر حال اس وقت سورۃ الاعلیٰ کی ان آیات کے حوالے سے کچھ کہوں گا۔حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر میں اس کی بڑی تفصیل سے تفسیر بیان کی ہے اور بحث فرمائی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی تفاسیر جو ہیں وہ بھی ایک عظیم علمی خزانہ ہیں۔گو یہ پوری قرآنِ کریم کی تو تفسیر نہیں ہے لیکن جن جن سورتوں کی ہے اُن کو پڑھنے کی طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہئے۔یہ مختلف دس جلدیں ہیں۔سبح اسم رَبَّكَ الْأَعْلَى (الاعلی :2) یعنی تسبیح کر اپنے رب کی جو اعلیٰ ہے۔یعنی تیر ارب جور بوبیت کے لحاظ سے سب سے بلند اور اعلیٰ شان رکھتا ہے اُس کی تسبیح کر۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ تو اپنے رب کا نام دنیا میں بلند کر۔گویا دو ذمہ داریاں ایک مومن کی لگائی گئی ہیں جو اس بات پر