خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 219

خطبات مسرور جلد ہشتم 219 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 رہے ہیں ان کو اگر دور کرنا ہے تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو امن کی جگہ اور جائے پناہ سمجھ کر خالص ہو کر اس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں جس سے یہ دور ہو سکیں۔اب تو بعض اور ممالک بھی شامل ہو گئے ہیں۔مثلاً مصر ہے آج کل وہاں بھی احمدیوں پر تنگی وارد کی جارہی ہے۔اس کا ایک ہی حل ہے کہ خدا تعالیٰ کے آگے اضطراری رنگ میں جھکا جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ایسی اضطراری حالت ہو گی اور ایسی حالت میں دعائیں کی جائیں گی تو میں انہیں قبول کرتا ہوں۔انسان کی پیدائش کے بعد خدا تعالیٰ نے اسے چھوڑ نہیں دیا۔بلکہ رحمانیت اور رحیمیت کے جلوے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے آگے خالص ہو کر جب جھکا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں نہ صرف تکلیفیں دور کر دیتا ہوں بلکہ اپنے ایسے پیاروں کو زمین کا وارث بنا دیتا ہوں۔احمدیوں پر سختیاں اور ابتلا اگر ہیں تو اس وجہ سے کہ اللہ کے پیارے کو ہم نے سچا سمجھ کر مانا اور اللہ کے حکم کے مطابق مانا۔پس اللہ تعالیٰ یقیناً قدرت رکھتا ہے اور دکھائے گا کہ آج جو زمین کے وارث بنے بیٹھے ہیں ان کی جگہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے کے پیاروں کو زمین کا وارث بنا دے گا اور دنیا کو بتا دے گا کہ تم دنیا والوں کو معبود سمجھ کر میرے پیاروں پر زمین تنگ کرنے والے بن رہے تھے تو دیکھ لو کہ میرے سوا کوئی اس دنیا کا مالک نہیں۔اور میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اپنے نیک اعمال بجالانے والے اور عابد بندوں کی کس طرح مدد کر تاہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : کلام الہی میں لفظ مضطر سے وہ ضر ریافتہ مراد ہیں جو محض ابتلاء کے طور پر ضر ریافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر۔لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ قومِ نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے ان قوموں کو ہلاک کر دیا۔“ ( دافع البلاء روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231) پس جہاں جہاں احمدی تکلیف میں ہیں وہ یاد رکھیں کہ صرف احمدی ہیں جو اس وقت ابتلا کی صورت میں ضر ریافتہ ہیں اور انہی کی دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے۔باقی دنیا اگر کسی مشکل میں گرفتار ہے تو وہ ابتلا نہیں ہے وہ سزا ہے۔پس ایک اضطرار کی کیفیت اپنی دعاؤں میں طاری کریں۔پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح تمام تکالیف کو اپنے فضل سے دور فرما دیتا ہے۔پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”یا درکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پر واہ نہیں کرتا“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 455 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی دعاؤں کی توفیق دے جو صرف اور صرف خدا تعالیٰ کو جائے پناہ سمجھ کر اس کے حضور کی جائیں۔