خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 218
خطبات مسرور جلد ہشتم 218 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 محروم رہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صورت میں اترا۔جڑی بوٹیاں بھی بے شک بڑھیں لیکن پاک فطرتوں کی ایمانی حالت کے باغات ان سے پاک صاف رہ کر ایمان اور ایقان میں ترقی کرتے چلے گئے۔آنحضرت علی ایم کے طفیل آپ کے اس غلام صادق کا زمانہ بھی تاقیامت ہے۔اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ مخالفتوں کی جڑی بوٹیاں بھی سر اٹھاتی رہتی ہیں۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر فضل کیا ہے جو آسمان سے اس زمانے میں یہ پانی اتارا ہے جس نے تمہارے دلوں کے باغات کو سیراب کیا ہے اس سے ہمیشہ صحیح فائدہ اٹھاتے رہو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو تمہیں ہدایت ملی ہے اس کی قدر کرو۔اپنے تقویٰ اور اعمال کے درختوں کو اس پانی سے سینچتے رہو۔قرآنی تعلیم کو اپنے اوپر لاگور کھو اور لاگو رکھنے کی کوشش کرتے رہو۔خدائے واحد کی عبادت کی طرف توجہ کرو۔اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہو۔جس طرح ہوا سے بعض دفعہ خراب کھیتوں کے، جڑی بوٹیوں کے بیج اچھے کھیتوں میں بھی آجاتے ہیں اور آئندہ نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں تو اچھے زمیندار جب انہیں اپنے کھیتوں میں اگتا دیکھتے ہیں تو فوراً تلف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح اپنے دلوں کے کھیتوں کی صفائی کرتے رہو کیونکہ دنیاوی باتیں اس دنیا کے ماحول میں رہنے کی وجہ سے اثر انداز ہوتی رہتی ہیں تبھی تم اپنے حقیقی خالق و مالک کے عبد بننے کا حق ادا کرنے والے بن سکتے ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے بس میں نہیں ہے کہ تم اعمالِ صالحہ کے باغوں کو پروان چڑھاؤ۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے۔پس اس بات کی قدر کرو اور اللہ تعالیٰ کو معبود حقیقی سمجھو۔اس کی عبادت سے کبھی غافل نہ ہو۔وو عبادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آمنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ، عَالَهُ فَعَ اللهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ (سورة النمل: 63) پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو کون بے کس اور مصیبت زدہ کی باتوں کو سنتا ہے۔پس ایسے لوگوں کا نقشہ اس آیت میں کھینچا گیا ہے جو انتہائی اضطرار کی حالت میں ہیں یا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہیں اور جب اضطرار کی کیفیت ہو یعنی وہ حالت جب کوئی جائے پناہ نظر نہ آتی ہو اور پھر انسان خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو اور کہے کہ دنیا کے سارے دروازے تو بند ہو گئے اے خدا! تو زمین و آسمان کا خالق و مالک ہے ، روحانی بارش کا نزول بھی تیرا انعام ہے اور تیرے فرستادے کو قبول کرنا بھی تیرا انعام ہے۔لیکن اس قبول کرنے کے بعد ، اس قبولیت کے بعد میرے پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔یہ ابتلاء جو آرہے ہیں انہیں دور کرنے والا بھی تو ہے۔پس میرے سے ابتلاؤں کو دور فرما۔ہم دیکھتے ہیں آج کل پھر پاکستان میں احمدیوں کے جو حالات ہیں اور ایک لمبے عرصے سے یہ چل