خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 217
خطبات مسرور جلد ہشتم 217 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 مئی 2010 زندگی کے سامان پیدا کئے۔مسلسل بارشوں نے زمین کو اس قابل بنایا کہ اس میں موجودہ زندگی پیدا ہو سکے اور یہ سب خدا تعالیٰ کا منصوبہ تھا جس کے تحت اس نے کائنات اور تمام نظاموں کی تخلیق کی۔فرمایا کہ یہ پر رونق باغات یہ تمہارے ماحول کی صفائی ، صحت اور خوراک مہیا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ان کو خدا تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے اور اس پانی کے ذریعہ پیدا کیا ہے جو آسمان سے اترا اور ایک مسلسل عمل ہے جو زمین سے پانی کو اوپر لے جاتا ہے اور پھر صاف مصفی پانی اور زندگی بخش پانی انسانی زندگی کی بقا کے لئے زمین پر اترتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہارے بس میں نہیں تھا کہ زمینی زندگی کے سامان کر سکتے۔پس اس بات پر غور کرو اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکو۔اس میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ اگر خدا تعالیٰ نے جسمانی ضروریات کے سامان مہیا فرمائے ہیں اور اپنی صفت ربوبیت کے تحت ہماری پیدائش کے سامان پیدا فرما رہا ہے تو انسانی پیدائش کا جو یہ مقصد ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بنے ، اس کے لئے کیوں انتظام نہ فرماتا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس مقصد کی یاد دہانی کے لئے انبیاء کا نظام ہے جو اس طرف توجہ کرواتا ہے۔وہ روحانی پانی انبیاء کے ذریعے نازل ہو تا ہے۔جس طرح بارش کا پانی نازل ہونے سے ، اترنے سے زمین میں روئیدگی پیدا ہوتی ہے فصلیں باغات اپنا جو بن دکھاتے ہیں تو ساتھ ہی ایسی نباتات بھی نکل آتی ہیں۔ایسی جڑی بوٹیاں بھی نکل آتی ہیں جو ان فصلوں کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں۔زمیندار اس کو جانتے ہیں اور بعض دفعہ بعض فصلوں میں اس قدر جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں کہ تلف کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اصل فصل جو ہے وہ دب جاتی ہے۔اب تو ترقی یافتہ ممالک میں دوائیں چھڑک کر ان بوٹیوں کو ختم کیا جاتا ہے لیکن بہر حال دنیا کے ممالک ایسے بھی ہیں جہاں کے زمیندار جو محنت نہیں کرتے ان بارشوں کی وجہ سے جو بوٹیاں اگتی ہیں اس سے ان کا نقصان بھی ہوتا ہے یا بعض دفعہ اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ ختم کر ہی نہیں سکتے۔تو وہی بارش جو بارش سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کی وجہ سے ایک کو فائدہ دے رہی ہوتی ہے تو دوسرے کو اس بارش سے نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔روحانی زندگی میں بھی یہی حال ہے۔انبیاء کے آنے سے جو روحانی بارش ہوتی ہے اس سے نیک فطرت اور محنتی تو فائدہ اٹھاتے ہیں اور مخالفت میں پڑنے والے اور دین سے لا تعلق محروم رہ جاتے ہیں اور نہ صرف محروم رہ جاتے ہیں بلکہ اپنی عاقبت برباد کرنے والے بن جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ غریب تو اس بارش سے فائدہ اٹھانے والے بنے اور فائدہ اٹھا کر رضی اللہ عنہ کا درجہ پاگئے۔لیکن بعض سرداران دنیا میں بھی اپنے بد انجام کو پہنچے اور آخرت میں بھی ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبریں ہی دی ہیں تو اس کا بھی یہی حال ہے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جو روحانی پانی اتارا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو عاشق صادق ہیں ان سے جنہوں نے فائدہ اٹھایا انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت اور سلوک کے نظارے دیکھے۔اپنی زندگیوں میں اپنی خوبصورتی اور اپنی روحانیت کو بڑھتے پھلتے پھولتے دیکھا۔جو مخالفین تھے وہ اس آسمانی پانی سے