خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 208
خطبات مسرور جلد ہشتم 208 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 بارے میں ایک کتاب بھی ہے جس کا نام مسیح ہندوستان میں ہے۔بہر حال مختلف سوالات ہوتے رہے جماعت احمدیہ کی خلافت کے انتخاب کے طریق کے بارے میں۔پھر اور باتیں ہوئیں۔ان کو میں نے کہا یہ بھی میری ایک خوش قسمتی ہے کہ مجھے اس کپڑے کو دیکھنے کا موقع ملا جسے آپ کفن کہتے ہیں۔جس کی نمائش عموما ہیں پچیس سال بعد ہوتی ہے۔تو پھر انہوں نے بتایا کہ یہ ضروری نہیں۔بعض دفعہ کم سالوں بعد بھی ہوئی، مثلاً 1998 ء میں ہوئی پھر 2000ء میں۔1998ء میں تو تقریباً ہمیں سال کے بعد ہوئی تھی، لیکن 2000ء میں حضرت عیسی کے دو ہزار سال پورے ہونے کی وجہ سے انہوں نے نمائش کی۔اور اس سال بھی انہوں نے بتایا کہ پروگرام ایسا نہیں تھا لیکن پوپ نے حکم دیا تھا کہ نمائش کی جائے۔اور یہ نمائش 10 مئی تک جاری رہے گی۔بہر حال بہت خلقت تھی ہجوم تھا جو اس نمائش کو دیکھنے آتے تھے۔دس سال بعد یہ نمائش ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے میرے سفر اور اس نمائش کو بھی ملا دیا۔اور اس طرح ہمیں بھی دیکھنے کا موقع مل گیا۔اپریل کے آخر میں 2 مئی کو پوپ نے اس نمائش کو دیکھنے آنا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے دیکھنے کا موقع دیا۔پھر انہوں نے اپنی باتوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی تکالیف کا ذکر کیا تو میں نے انہیں کہا کہ انبیاء تکالیف اٹھاتے ہیں اور اس زمانے میں جو مسیح موعود ہیں انہوں نے بھی بہت سی تکالیف برداشت کی ہیں۔بہر حال پھر جماعت کے بارے میں پوچھا کیا وجہ ہے کہ آپ لوگ مختلف مذاہب کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں اور ڈائیلاگ کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ مذہب کے بارے میں کوئی جبر نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہدایت واضح کر دی ہے جو چاہے اب مانے یا نہ مانے۔اور ہدایت دینا ویسے بھی اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔پیغام پہنچانا ہمارا کام ہے۔لیکن دوسری طرف جو انسانی قدریں ہیں ان کا پاس کرتے ہوئے ہم ہر مذہب کے شخص کی عزت بھی کرتے ہیں اور احترام بھی کرتے ہیں اور بات بھی کرتے ہیں۔بہر حال مذاہب، امن بین المذاہب سیمینار زوغیرہ کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔میں نے انہیں باتوں باتوں میں یہ بھی کہا، انہوں نے اس بارہ میں بھی سوال کیا تھا تو جواب میں مجھے کہنا پڑا کہ آج عیسائی دنیاد نیاوی لحاظ سے جو ترقی کر رہی ہے یہ سب کچھ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بدولت، ان کے خدا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی ان تکالیف کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی وجہ سے آپ کو مل رہا ہے اور یہ جو تمہاری اتنی عالی شان عمارت ہے اور یہ سب سامان ہے یہ انہی کا مرہونِ منت ہے اور میری دعا ہے کہ تم لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے حقیقی پیغام کو سمجھنے والے بنو اور اس کو پھیلاؤ۔بہر حال پھر انہوں نے اس کے بعد لائبریری دکھائی اور پھر میں نے ان سے پوچھا کہ اسلام کے بارے میں بھی اگر کتب رکھی جائیں، قرآن کریم بھی ہے کہ نہیں؟ تو انہوں نے مثبت جواب دیا۔تو میں نے انہیں کہا کہ ہماری ایک انگریزی کی کمنٹری ہے فائیو والیم (Five volumes) میں وہ ہم بھجوا دیں گے۔اسی طرح کیونکہ وہاں ان کے بعض عربی پڑھنے والے سکالر بھی تیار ہوتے ہیں ، ان کے لئے تفسیر کبیر کا عربی ترجمہ جو