خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 204

خطبات مسرور جلد ہشتم 204 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اپریل 2010 ابراہیم خلیل صاحب اور مولوی محمد عثمان صاحب کو اٹلی بھیجوایا اور ملک صاحب کو امیر مقرر کیا۔ملک صاحب نے ان دونوں کو سسلی بھجوا دیا۔سلی بھی اٹلی کا وہ جزیرہ اور علاقہ ہے جہاں تقریباً 260 سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔یہاں پہلے تو مبلغین کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ایک دفعہ تو ان کو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر نکل جانے کا نوٹس بھی ملا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور حکومت نے نکل جانے کا نوٹس کینسل کیا اور کچھ عرصہ وہاں رہے۔لیکن بہر حال مشکل حالات ہی تھے، اٹلی کا مشن بند ہو گیا۔اور ان واقعات کی ایک لمبی تفصیل ہے۔ان مبلغین کے بڑے ایمان افروز واقعات ہیں۔ان کا ذکر بھی ہو سکتا ہے رپورٹ لکھنے والے کچھ نہ کچھ رپورٹ میں دے دیں گے انشاء اللہ۔جیسا کہ میں نے کہا جب مشن بند ہوا تو یہ دونوں مبلغین وہاں سے چلے گئے لیکن ملک شریف صاحب اپنے گزارے کا سامان خود پیدا کر کے 1955ء تک اٹلی میں رہے ہیں اور تبلیغ کا کام کیا ہے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 339 تا 344 مطبوعہ ربوہ) اس کے بعد باقاعدہ رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے جو احمدی وہاں ہوئے تھے (ان کے زمانے میں تیس چالیس کا ذکر تو انہوں نے ایک جگہ پہ کیا ہوا ہے) ان کی نسلوں میں آگے شائد احمدیت قائم نہیں رہی۔بہر حال اب اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے ہیں کہ پاکستانی احمدی بھی اچھی تعداد میں وہاں پہنچے ہیں۔نیز گھانین احمدی بھی کافی تعداد میں وہاں ہیں۔بلکہ ایک شہر کی جماعت ہی پوری گھانین احمدیوں کی ہے۔اور عربوں میں مراکش اور الجزائر وغیرہ کے لوگوں میں سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک مخلص جماعت بن رہی ہے۔ان عربی بولنے والے احمدیوں کی فدائیت کا تو عجیب حال ہے۔جیسا کہ پہلے میں ذکر کر چکا ہوں۔ان کا یہاں بھی یہی حال ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد جذبات سے مغلوب ہو کر رونے لگ جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے وہاں جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک خطبے میں ذکر کیا ہے کہ جماعت کو مشن ہاؤس اور سینٹر خریدنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔2008ء میں خریدا گیا تھا اور مسجد کے لئے بھی کوشش ہو رہی ہے اور میئر اور مقامی کو نسلر وغیرہ جو ہیں اس کے لئے بھر پور تعاون کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے اور جلد یہاں بھی مسجد بنانے کی توفیق ہمیں مل جائے۔یہاں بھی دو تین احباب و خواتین نے بیعت کی۔اور اسی طرح گزشتہ چند ماہ میں جو بیعت کرنے والے ہیں، انہوں نے بھی دستی بیعت کی۔الحمد للہ۔یہاں ایک ریسپشن کا پروگرام بھی جماعت نے بنایا تھا جس میں ہمارے سینٹر بیت التوحید کے علاقے یعنی اس شہر کے میئر ( اس شہر کا نام کافی لمبا ہے san pietroin casale سان پیاٹر وان کیلے) اور کونسلر تھے اور پڑھے لکھے لوگ بھی تھے۔پولیس افسران بھی تھے۔اس میں ساتھ کے جو شہر ہیں ان کے میئر تھے۔ایک شہر کے میئر کے نمائندے آئے ہوئے تھے اور سب نے جماعت کے بارے میں بڑا اچھا اظہارِ خیال کیا۔جماعت کی خدمات کو سراہا۔تعلیم کو سراہا۔آخر میں میں نے بھی قرآنِ کریم کے حوالے سے اسلام کی خوبصورت اور امن پسند تعلیم