خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد ہشتم 198 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 کا صرف لیبل ہے۔یہ نہ ہو کہ بعد میں آنے والے احمدی آگے نکل کر ان برکات سے فیض پالیس اور پرانے احمدی جن کے باپ دادا نے قربانیاں دے کر احمدیت کے چشمے اپنے گھروں میں جاری کئے تھے وہ اس چشمے سے محروم ہو جائیں۔پس بہت دعاؤں اور توجہ کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "یقیناً سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ پیارے نہیں ہیں جن کی پوشاکیں عمدہ ہوں اور وہ بڑے دولت مند اور خوش خور ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ پیارے ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اور خالص خدا ہی کے لئے ہو جاتے ہیں۔پس تم اس امر کی طرف توجہ کرو، نہ پہلے امر کی طرف “۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 596) پھر آپ فرماتے ہیں ” جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( آل عمران : 56) یعنی اور وہ لوگ جنہوں نے تیری پیروی کی انہیں ان لوگوں پر جنہوں نے تیرا انکار کیا قیامت تک غالب رکھوں گا۔یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دو تین دفعہ ہوا۔قرآنِ کریم کی آیت بھی ہے۔اور 1883ء میں شاید اس وقت پہلی دفعہ ہوا جب آپ کی جماعت کی ابھی بنیاد بھی نہیں پڑی تھی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں پھر فرماتے ہیں کہ ”وہ میرے متبعین کو میرے منکروں اور میرے مخالفوں پر غلبہ دے گا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ متبعین میں سے ہر شخص محض میرے ہاتھ پر بیعت کرنے سے داخل نہیں ہو سکتا جب تک اپنے اندر وہ اتباع کی پوری کیفیت پیدا نہیں کرتا متبعین میں داخل نہیں ہو سکتا۔ایسی پیروی کہ گویا اطاعت میں فنا ہو جاوے اور نقش قدم پر چلے۔اس وقت تک اتباع کا لفظ صادق نہیں آتا۔“ فرماتے ہیں کہ ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسی جماعت میرے لئے مقدر کی ہے جو میری اطاعت میں فنا ہو اور پورے طور پر میری اتباع کرنے والی ہو۔“ فرمایا: ” یہ ضروری امر ہے کہ میں تمہیں توجہ دلاؤں کہ تم خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا کر و اور اسی کو مقدم کر لو اور اپنے لئے آنحضرت صلی علی یم کی پاک جماعت کو ایک نمونہ سمجھو۔ان کے نقش قدم پر چلو“۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 596-597) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہمارے سے یہ توقعات ہیں۔اگر ہم حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق جوڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔حقیقی متبع بننے کے لئے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔بوڑھوں، عورتوں، نوجوانوں کو اپنے جائزے لینے ہوں گے۔والدین کو اپنے گھروں کی نگرانی کرنی ہو گی۔بچوں کے اٹھنے بیٹھنے اور نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔پیار سے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے آگاہ کریں۔یہ ماؤں کا بھی