خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 197

خطبات مسرور جلد ہشتم 197 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 اس کے ساتھ ہی میں ان احمدی لڑکیوں کو بھی کہتا ہوں جو کسی قسم کے complex میں مبتلا ہیں کہ اگر دنیا کی باتوں سے گھبرا کر یا فیشن کی رو میں بہہ کر انہوں نے اپنے حجاب اور پر دے اتار دیئے تو پھر آپ کی عزتوں کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔آپ کی عزت دین کی عزت کے ساتھ ہے۔میں پہلے بھی ایک مرتبہ ایک واقعہ کا ذکر کر چکا ہوں۔اس طرح کے کئی واقعات ہیں۔ایک احمدی بچی کو اس کے باس ( Boss) نے نوٹس دیا کہ اگر تم حجاب لے کر دفتر آئی تو تمہیں کام سے فارغ کر دیا جائے گا اور ایک مہینہ کا نوٹس ہے۔اس بچی نے دعا کی کہ اے اللہ ! میں تو تیرے حکم کے مطابق یہ کام کر رہی ہوں اور تیرے دین پر عمل کرتے ہوئے یہ پردہ کر رہی ہوں۔کوئی صورت نکال۔اور اگر ملازمت میرے لئے اچھی نہیں تو ٹھیک ہے پھر کوئی اور بہتر انتظام کر دے۔تو بہر حال ایک مہینہ تک وہ افسر اس بچی کو تنگ کر تا رہا کہ بس اتنے دن رہ گئے ہیں اس کے بعد تمہیں فارغ کر دیا جائے گا۔اور یہ بچی دعا کرتی رہی۔آخر ایک ماہ کے بعد یہ بچی تو اپنی کام پر قائم رہی لیکن اس افسر کو اس کے بالا افسر نے اس کی کسی غلطی کی وجہ سے فارغ کر دیا یا دوسری جگہ بھجوا دیا اور اس طرح اس کی جان چھوٹی۔اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو خدا تعالیٰ ایسے طریق سے مدد فرماتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کے الفاظ دل سے نکلتے ہیں۔پھر نویں شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خلق اللہ سے ہمدری اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کا لکھا ہے۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 مطبوعہ ربوہ) یہ بھی حقیقی رنگ میں اس وقت ہو سکتا ہے جب خالص ہمدردی کے جذبے کے تحت دنیا کو خدا تعالی کے قریب کرنے کی کوشش کریں اور انہیں کامل اور مکمل دین کے بارے میں بتائیں۔اور یہ اس وقت ہو گا جب پیغام پہنچانے والے کے اپنے عمل بھی اس تعلیم کے مطابق ہوں گے۔اور پھر ایک درد کے ساتھ ماحول میں پیغام پہنچانے کی کوشش کریں گے۔شرائط بیعت کی آخری شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مجھ سے اطاعت ور تعلق سب دنیاوی رشتوں سے زیادہ ہو۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 160 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پس ہر ایک کو جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے رشتے ، ہماری عزیز داریاں، ہمارے تعلقات، ہماری قرابت داریاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق میں حائل تو نہیں ہو رہے اور اس کے معیار کا علم ہمیں اس وقت ہو گا جب ہم آپ کی تعلیم (جو اسلام کی حقیقی تعلیم ہے) کا جوا مکمل طور پر اپنے گلے میں ڈالنے والے ہوں گے یا اس کے لئے کوشش کرنے والے ہوں گے۔آپ نے اپنے بعد جس قدرتِ ثانیہ کے آنے کی خوشخبری دی تھی جو دائمی ہو گی اس قدرتِ ثانیہ یعنی خلافت کے ساتھ کامل اطاعت اور وفاکا نمونہ بھی آپ دکھائیں گے۔اگر ہر ایک حقیقی تعلق کو قائم رکھنے کا عہد کرے گا تو وہ حقیقت میں آپ کی جماعت میں شمار ہو گا ورنہ احمدیت