خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 196
خطبات مسرور جلد ہشتم 196 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 دنیا میں فساد پیدا کرنے کی جو ساری activities ہیں وہ بقول ان کے ختم ہو جائیں گی۔بے شک یہ میناروں کا فیصلہ تو ہو چکا ہے۔لیکن اس ایشو کو ہر وقت زندہ رکھیں۔وقتا فوقتا اخباروں میں لکھیں، سیمینار کریں یا اور مختلف طریقوں سے اس طرف لوگوں کی توجہ کراتے رہیں۔جس طرح توجہ سے انہوں نے ریفرینڈم کروا کر یہ قانون پاس کروایا ہے اسی طرح ریفرینڈم سے قانون ختم بھی ہو سکتا ہے۔بے شک میناروں کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہے۔یہ تو بہت بعد میں بننے شروع ہوئے ہیں لیکن یہاں اسلام کی عزت کا سوال ہے کہ اسلام کو میناروں کے نام پر بد نام کیا جا رہا ہے۔اس لئے مسلسل کوشش ہوتی رہنی چاہئے۔جماعت احمدیہ کی مثال دنیا کے سامنے پیش کریں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 195 ممالک میں جماعت قائم ہے۔کسی ایک جگہ بھی مثال دو، یہاں سوئٹزر لینڈ میں ہی مثال دو کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے کبھی کوئی قانون شکنی کی گئی ہو یا کسی بھی فساد میں جماعت نے حصہ لیا ہو ، یا حکومت کے خلاف کسی بغاوت میں شامل ہوئے ہوں۔بلکہ قوانین کی مکمل پابندی کی جاتی ہے۔ہم ہیں جو اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے والے ہیں۔ذاتی رابطوں سے اپنے تعلقات کو بھی وسیع کریں۔اپنے گھر وں میں بیٹھ کر اپنے ماحول میں نہ بیٹھے رہیں۔جن کو زبان آتی ہے، جن کے ارد گر دما حول میں شرفاء ہیں وہ اس ماحول میں رابطے کریں۔تبلیغی میدان کو وسیع کریں۔جن کو صحیح طرح زبان نہیں آتی وہ کوئی لٹریچر لے کر تقسیم کرنا شروع کر دیں۔بہر حال پوری جماعت کے ہر فرد کو اس بات میں اپنے آپ کو ڈالنا ہو گا۔تبھی آپ کی تھوڑی تعداد بھی جو ہے وہ موئثر کر دار ادا کر سکتی ہے۔کیونکہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا اور تبلیغ کی مہم میں اسلام کی اور دین کی عزت اور عظمت قائم کرنا ضروری ہے۔جب تک ہم ایک مسلسل جدوجہد کے ساتھ اپنی تعداد میں اضافے کی کوشش نہیں کرتے ہم دین کی عزت قائم کرنے اور اسلام کی ہمدردی کا حق ادا نہیں کر سکتے یا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح آج کل یورپ میں اسلام کو بدنام کرنے کا ایک ایشو پردہ کا بھی اٹھا ہوا ہے۔ہماری بچیاں جو ہیں اور عور تیں جو ہیں ان کا کام ہے کہ اس بارے میں ایک مہم کی صورت میں اخباروں میں مضامین اور خطوط لکھیں۔انگلستان میں یا جرمنی وغیرہ میں بچیوں نے اس بارے میں بڑا اچھا کام کیا ہے کہ پردہ عورت کی عزت کے لئے ہے اور یہ تصور ہے جو مذہب دیتا ہے ، ہر مذہب نے دیا ہے کہ عورت کی عزت قائم کی جائے۔بعضوں نے تو پھر بعد میں اس کی صورت بگاڑ لی۔عیسائیت میں تو ماضی میں زیادہ دور کا عرصہ بھی نہیں ہو ا جب عورت کے حقوق نہیں ملتے تھے اور اس کو پابند کیا جاتا تھا، بعض پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا۔تو بہر حال یہ عورت کی عزت کے لئے ہے۔عورت کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنی عزت چاہتی ہے اور ہر شخص چاہتا ہے لیکن عورت کا ایک اپناوقار ہے جس وقار کو وہ قائم رکھنا چاہتی ہے اور رکھنا چاہئے۔اور اسلام عورت کی عزت اور احترام اور حقوق کا سب سے بڑا علمبر دار ہے۔پس یہ کوئی جبر نہیں ہے کہ عورت کو پر وہ پہنایا جاتا ہے یا حجاب کا کہا جاتا ہے۔بلکہ عورت کو اس کی انفرادیت قائم کرنے اور مقام دلوانے کے لئے یہ سب کوشش ہے۔