خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 195
خطبات مسرور جلد ہشتم نہیں دینی۔195 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اپریل 2010 پھر چوتھی شرط بیعت آپ نے بیان فرمائی کہ نفسانی جوش کے تحت نہ زبان سے نہ ہاتھ سے کسی کو تکلیف (ماخوذ از مجموعه اشتہارات جلد اول صفحہ 159 مطبوعہ ربوہ) پھر آپ نے فرمایا کہ ہر حالت میں، تنگی کے حالات ہوں یا آسائش کے خدا تعالیٰ سے بے وفائی نہیں کرنی بلکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق میں قدم آگے بڑھانا ہے۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159 مطبوعہ ربوہ) جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں کشائش جو اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں آنے کی وجہ سے آپ کو عطا فرمائی ہے اس کے حقیقی شکر گزار بندے بنیں۔بعض لوگ آج کل کے معاشی حالات کی وجہ سے جو دنیا میں گزشتہ تقریباً دو سال سے عمومی طور پر چل رہے ہیں پریشانی کا شکار بھی ہیں۔لیکن اس پریشانی میں بھی خدا تعالیٰ کا دامن نہیں چھوڑنا۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھول کر بیان فرمایا ہے۔پھر ایک شرط یہ آپ نے رکھی کہ دنیا کی رسموں اور ہو اوہوس سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔اور اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت کرنی ہے۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159) اب اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت کرنے کے لئے قرآنِ کریم کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ قرآنِ کریم میں اس کے جو حکم ہیں ان کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو۔پھر ایک شرط یہ فرمائی کہ ہر قسم کا تکبر چھوڑنا ہو گا اور عاجزی اختیار کرنی ہو گی۔(ماخوذ از مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه 159 مطبوعہ ربوہ) پھر آٹھویں شرط میں آپ فرماتے ہیں کہ اور دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان، مال اور عزت اور اولاد اور ہر ایک عزیز سے زیادہ عزیز سمجھ لیں۔(ماخوذ از مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه 160 مطبوعہ ربوہ) پس یہ ایک بہت اہم شرط ہے۔ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ احمدی ہونے کے ناطے احمدیت کا نمائندہ ہے۔اور اسلام کی حقیقی تصویر بنے کی اس نے کوشش کرنی ہے۔غیر احمدی مسلمانوں کی نظریں بھی ہم پر ہیں اور غیر مسلموں کی نظریں بھی ہم پر ہیں۔ہم یہ دعویٰ کر کے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں کہ ہم اسلام کی حقیقی تصویر ہیں۔جب ہم اسلام کی حقیقی تصویر ہیں تو اسلام کی عزت کو قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہمارے سپر د ہے۔ہم نے ایک نمونہ بننا ہے۔اور جب ہمارے نمونے ہوں گے تو تبھی ہم تبلیغ کے میدان میں بھی ترقی کر سکتے ہیں۔دین کی عزت اور اسلام کی ہمدردی ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس عزت کو دنیا میں قائم کریں۔آج جب کہ ہر طرف اسلام کے خلاف محاذ کھڑے کئے گئے ہیں آپ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں۔اسلام مخالف لوگوں نے یہاں اس ملک میں بھی اسلام کو بدنام کرنے کا ایک طریق اختیار کیا ہے کہ مسلمانوں کی مسجدوں کے مینارے نہ بننے دیئے جائیں۔اگر یہ مینارے ختم ہو گئے تو مسلمانوں کے جرائم اور ان کی